بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جھوٹ بولنے کا حکم


سوال

میں جس شعبے میں ملازم  ہوں، وہاں جھوٹ بولا جاتا ہے اور میں بھی جھوٹ بولنے پر مجبور کیا جاتا ہوں اور اس شعبے کے علاوہ میرا کہیں اور کام کرنا بہت مشکل ہے تو مجبوری میں میرے لیے کیا حکم ہے کیا میں جھوٹ بول سکتا ہوں؟ 

جواب

             واضح رہے کہ جان بوجھ کرخلاف واقع بات کہنا جھوٹ ہے اور جھوٹ حرام ہے ۔ رسول اللہ ﷐نے جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی کو کبیرہ گناہوں میں سے قرار دیا  ہے اور جھوٹ بولنےکو منافق کی نشانی شمار کیا ہے ۔

            صورت مسئولہ کے مطابق حتی الوسع کوشش کرکے خود کو جھوٹ اور دھوکہ دہی سے بچائے،اگر مجبوری ہو، تو ایسا طریقہ اختیار کرے کہ جھوٹ بولنے سے بھی بچے اور نوکری بھی بحال رہے، تاہم اگر کوئی صورت بچنے کی نہ ہو، تو پھر دوسری ملازمت تلاش کرے۔

 

كذب الخبر عدم مطابقته للواقع وقيل هو إخبار لا على ما عليه المخبر عنه۔ (التعريفات للجرجاني، باب الكاف، ص:129)

حدثني إسحاق، حدثنا خالد الواسطي، عن الجريري، عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أنبئكم بأكبر الكبائر قلنا: بلى يا رسول الله، قال: "الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وكان متكئا فجلس فقال: ألا وقول الزور، وشهادة الزور، ألا وقول الزور، وشهادة الزور " فما زال يقولها، حتى قلت: لا يسكت۔(صحيح البخاري، كتاب الأدب، باب: عقوق الوالدين من الكبائر، ج:2، ص:884)

 حدثنا سليمان أبو الربيع، قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر، قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان "۔(صحيح البخاري، كتاب الإيمان، باب علامة المنافق، ج:1، ص:10)


فتویٰ نمبر : 4960/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں