بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/08/2026 |
دارالافتاء
مصنوعی ہاتھ پر مسح کرنا
سوال
ایک امام صاحب کا ہاتھ گٹّے تک کٹا ہوا ہے، اب اس نے مصنوعی ہاتھ لگایا ہے، امام صاحب فجر اور کبھی کبھار ظہر کی نماز کے لیے وضو میں مصنوعی ہاتھ اتار کر وضو کرتا ہے،اور پھر ہاتھ لگا کر نماز پڑھاتا ہے، لیکن بقیہ نمازوں (عصر، مغرب اور عشا) میں مصنوعی ہاتھ پر مسح کر کے نماز پڑھاتا ہے۔ تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب
اگر کسی کا ہاتھ یا پاؤں کٹا ہوا ہو اور اس پر مصنوعی ہاتھ یا پاؤں چڑھایا گیا ہو تو اگر ہاتھ کہنی سے اوپر تک اور پاؤں ٹخنوں سے اوپر تک کٹا ہوا ہو تو وضو میں اس کے ذمے سے اس ہاتھ یا پاؤں کا دھونا ساقط ہوجاتا ہے، اس لیے اگر اس پر مصنوعی ہاتھ یا پاؤں لگایا گیا ہو تو اس پر مسح کرنا بھی ضروری نہیں۔تاہم اگر کسی کا ہاتھ کہنیوں سے نیچے یا پاؤں ٹخنوں سے نیچے کٹا ہوا ہو تو اس پر ہاتھ یا پاؤں کے بقیہ حصے کو دھونا لازم ہوتا ہے۔ اگر اس پر مصنوعی ہاتھ یا پاؤں چڑھایا گیا ہو تو اگر اس کو کھولنا ممکن ہو تو اس کو کھول کر ہاتھ یا پاؤں کا موجودہ حصہ دھونا لازم ہے، البتہ اگر اس کو کھولنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں اس کے اوپر مسح کرنا جائز ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق جس شخص کا ہاتھ گٹّے تک کٹا ہوا ہے اور اس پر مصنوعی ہاتھ چڑھایا ہوا ہے، تو اگر اس کو کھولنا ممکن ہو جیسا کہ سوال سے معلوم ہورہا ہے تو اس پر مسح کرنا جائز نہیں بلکہ ہر وضو میں اس مصنوعی ہاتھ کو اتار کر بقیہ ہاتھ کہنی سمیت دھونا لازم ہے، محض مسح کافی نہیں۔
ولو قطعت يده أو رجله فلم يبق من المرفق والكعب شيء سقط الغسل ولو بقي وجب كذا في البحر الرائق وكذا غسل موضع القطع هكذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول في فرائض الوضوء، ج:1،ص:54)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں