بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

کتے کی خرید و فروخت کا حکم


سوال

ہمارے خاندان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو باہر ممالک سے کتاخرید کر لاتے ہیں ۔پھر اس سے نسل لیتے ہیں ۔پھر ایک ایک بچے کو چالیس پچاس ہزار روپے کے عوض فروخت کرتے ہیں ،یعنی ایک کاروبار بنایا ہے تو کیا یہ حلال ہے یا حرام؟

جواب

              یا  گھر میں رکھنا ممنوع ہے۔تاہم شکار یا چوکیداری کے لیےكتا  رکھنے کی گنجائش ہے،اور اس لیے کتے کی خرید و فروخت بھی جائز ہے۔

              صورت مسئولہ کے مطابق کتوں کی خرید و فروخت كی گنجائش ہے، لہذا اس کا نفع بھی حلال ہوگا۔البتہ حدیث مبارکہ میں کتوں کی شناعت بیان ہوئی ہےلہذا  اس کاروبار سے احتراز کرنا چاہیے۔

 

(وصح بيع الكلب) ولو عقورا (والفهد) والفيل والقرد (والسباع) بسائر أنواعها۔۔۔والحاصل: أن المتون على جواز بيع ما سوى الخنزير مطلقا وصحح السرخسي التقييد بالمعلم منها (قوله لا ينبغي اتخاذ كلب إلخ) الأحسن عبارة الفتح، وأما اقتناؤه للصيد وحراسة الماشية والبيوت والزرع، فيجوز بالإجماع لكن لا ينبغي أن يتخذه في داره إلا إن خاف لصوصا أو أعداء للحديث الصحيح «من اقتنى كلبا إلا كلب صيد أو ماشية نقص من أجره كل يوم قيراطان» "(ردالمحتار على درالمختار،باب المتفرقات من أبوابها، مطلب فى التداوى بالمحرم، ج:5، ص:227،دارالكتب العلمية بيروت)


فتویٰ نمبر : 4939/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں