بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

گھر میں نماز پڑھنے کا حکم


سوال

اگر کوئی آدمی گھر میں نماز پڑھنا  چاہے تو  گھر میں  نماز پڑھنے سے نماز  ادا ہوگی   یا نہیں؟

جواب

             جماعت کے ساتھ نماز  پڑھنے کےمتعلق حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ" باجماعت نماز ادا كرنا تنہا نماز اداکرنے پر ستائیس درجےفضیلت رکھتی ہے۔"اس کے علاوہ بھی نماز باجماعت کے بہت سے  فضائل روایات میں وارد ہیں۔فقہاء کرام کے نزدیک نماز باجماعت پڑھنا سنت مؤکدہ ہے جو حکم کے اعتبار سے واجب کے قریب ہے، بلا عذر مرد کا گھر میں نماز پڑھنے کی عادت بنا لینا گناہ ہے ، البتہ اگر کبھی عذر یا بلا عذر  جماعت رہ جائے تو گھر میں نماز پڑھ  سکتے ہیں اور  گھر میں پڑھی گئی نماز ادا متصور  ہو گی۔

عن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم "قال صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة"(الصحيح للبخارى،كتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة،ج:1، ص:131)

(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) وقال في شرح المنية: والأحكام تدل على الوجوب، من أن تاركها بلا عذر يعزر وترد شهادته، ويأثم الجيران بالسكوت عنه، وقد يوفق بأن ذلك مقيد بالمداومة على الترك (ردالمحتار على الدرالمختار، باب الامامة، مطلب فی تکرار الجماعة فی المساجد، ج:1،ص:552، دارالكتب العلمية)

(فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج) (قوله من غير حرج) قيد لكونها سنة مؤكدة أو واجبة، فبالحرج يرتفع الإثم ويرخص في تركها ولكنه يفوته الأفضل بدليل "أنه - عليه الصلاة والسلام - قال لابن أم مكتوم الأعمى لما استأذنه في الصلاة في بيته" ما أجد لك رخصة۔(ردالمحتار على الدرالمختار، باب الامامۃ، مطلب فی تکرار الجماعۃ فی المساجد، ج:1،ص:554، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 9048/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں