بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

پچھلی شرمگاہ میں کیڑوں کےرینگنےکی وجہ سےخارش پیداہونےسےوضوکاحکم


سوال

انسان کےبڑےبول کا محل(دبر) میں پتلےاورچھوٹےچھوٹےکیڑےپیداہوتےہیں،جس کی وجہ سےانسان کوخارش لگ جاتی ہے، توسوال یہ ہےکہ جب وہ خارش اس محل میں شروع ہوجائےتواس سےوضوٹوٹ جائےگایانہیں؟اکثراحتیاطاًوضوبھی کرچکےہیں،لیکن بعد الوضووہ خارش پھربھی ان کیڑوں کےرینگنےکی وجہ سےجاری رہتی ہےتوآیا اس صورت میں اس خارش کی وجہ سےدوبارہ وضوکرناضروری ہےیانہیں؟

جواب

       واضح رہےکہ جن اسباب سےشرعاًوضوٹوٹتاہے،من جملہ ان اسباب کےسبیلین سےبول وبرازیا کیڑےوغیرہ کانکلنا بھی ہے، چنانچہ جب مقعدسےکیڑاباہرنکل آئےتواس سےوضوٹوٹ جائےگا،البتہ اگر کیڑا باہرتونہ نکلے،لیکن اندررینگنےکی وجہ سےخارش پیدا کرے تومحض خارش پیداہونےسےوضوفاسدنہیں ہوتا۔

            صورتِ مسئولہ میں حسبِ بیان اگرواقعی کیڑےباہرنہ نکلتےہوں،دبرکےاندرہی رینگتےہوں،جس کی وجہ سےخارش پیداہوتی ہوتومحض اس خارش کی وجہ سےوضونہیں ٹوٹتا،بلکہ بدستوروہ باوضو شمارہوگا۔

منها ما يخرج من السبيلين من البول والغائط والريح الخارجة من الدبر والودي والمذي والمني والدودة والحصاة، الغائط يوجب الوضوء قل أو كثر وكذلك البول والريح الخارجة من الدبر. كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب الأول:فى الوضوء، الفصل الخامس في نواقض الوضوء، دارالفكر)


فتویٰ نمبر : 9056/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں