بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ہاسٹل کرایہ پر دینا


سوال

ایک شخص ایک ہاسٹل ( جس میں تیس کمرے ہوں)پچاس ہزار روپے (50,000) ماہانہ کرایہ پر  لیتا ہے، اور پھر ہر ایک کمرے کو دو  ہزار روپے  (2000)  پر لوگوں کو کرایہ پر دیتا ہے، تو اس کو مہینے کے ساٹھ ہزار روپے ( 60,000) اکھٹے ہوجاتے ہیں، تو کیا یہ دس ہزار روپے کا زائد کرایہ اس کے لیے جائز ہے؟

جواب

             واضح رہے کہ اجارہ پر لیا گیا  مکان آگے کسی اور کو اجارہ پر دینا جائز ہے ، بشرط یہ کہ  زیادہ سے زیادہ وہی کرایہ متعین کیا جائے، جو پہلے اجارہ میں طے ہوا ہے،البتہ اگر اجارہ پر لینے والے شخص نے اپنی طرف سے مکان میں کوئی اصلاحات یا اضافہ کیا ہو، اور  اس کے عوض  زیادہ مقرر کرے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

            صورت مسئولہ کے مطابق اگرمذکورہ شخص نے ہاسٹل میں کوئی اضافہ کیا ہو، مثلاً: رنگ و روغن کا کام کیا ہو، یا ہاسٹل میں رہنے والوں کے لیے   اپنی طرف سے کسی اضافی  سہولت کا انتظام کیا ہو، مثلاً: چوکیدار رکھا ہو،  صفائی کا بندوبست کیا ہو،یا بجلی، پانی ، گیس وغیرہ  کے بل ادا کرتا ہو،  تو ایسی صورت میں اس کے لیے  زیادہ کرایہ لینا جائز ہے، البتہ اگر اس نے کوئی اضافی کام یا سہولت مہیا نہ کی ہو، تو پھر یہ  اضافی کرایہ لینا جائز  نہ ہوگا۔

 

وإذا استأجر دارا وقبضها ثم آجرها فإنه يجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل، وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائزة أيضا إلا إنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها ( الفتاوی الھندیۃ، کتاب الاجارۃ، الباب لسابع فی اجارۃ المستاجر، ج:4، ص: 425)

ولو أجرها المستأجر بأكثر من الأجرة الأولى فإن كانت الثانية من خلاف جنس الأولى طابت له الزيادة، وإن كانت من جنس الأولى لا تطيب له حتى يزيد في الدار زيادة من بناء أو حفر أو تطيين أو تجصيص.فإن لم يزد فيه شيئا فلا خير في الفضل ويتصدق به(  بدائع الصنائع، کتاب الاجارۃ، فصل فی حکم الاجارۃ، ج:6، ص: 46)


فتویٰ نمبر : 2991/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں