بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

استطاعت کے باوجود میزان بینک سے گاڑی نکلوانا


سوال

ایک شخص کے پاس نقد رقم موجود ہے،اور استطاعت کے باوجود میزان بینک سے گاڑی نکلوا رہا ہے، تو کیا  استطاعت کے باوجود میزان بینک سے گاڑی نکلوانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

          کسی سے بلا سود قرض لینا یا ادھار معاملہ کرنا  جائز ہے، بشرط یہ کہ واپس ادا کرنے کی نیت ہو، تاہم جب  تک کوئی حقیقی حاجت درپیش نہ ہو، تو حتی الامکان اس سے بچنا چاہئے، چنانچہ اگر   کوئی ایسی ضرورت کی چیز ہو، جو متوسط درجے کے آدمی کی زندگی گزارنے کے لیے عرف عام میں ضروری سمجھی جاتی ہو، اور نقد اس کو خریدنے کی وسعت نہ ہو،  تو اسے ادھار یا قسطوں پر خریدنے کی گنجائش ہے، بشرط یہ کہ قرض کی ادائیگی کی نیت اور امید ہو، البتہ سامان تعیش و آرائش  کو  قسطوں پر خریدنا یا استطاعت کے باوجود ادھار خریداری کرنا کراہت سے خالی نہیں۔

       صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص کی اتنی استطاعت ہے کہ نقد خرید سکتا  ہے، تو اسے ادھار معاملہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔

لا بأس بأن يستدين الرجل إذا كانت له حاجة لا بد منها وهو يريد قضاءها ولو استدان دينا وقصد أن لا يقضيه فهو آكل السحت ( الفتاوی الھندیة،  کتاب الکراھیة، الباب السابع والعشرون في القرض والدين، ج:5، ص: 423)

ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا۔ (البحر الرائق، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية،ج: 6  ص:191، دار الكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 2993/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں