بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 19/08/2026 |
دارالافتاء
کسی شخص کے خلاف لطیفے بنانا
سوال
کسی شخص کے خلاف لطیفے بنانا اور سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر کرنا کیسا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ ایسے لطیفے سننا اور سنانا جائز نہیں ہےکہ جن میں لوگوں کے ہنسانے کے واسطے جھوٹ بولا جائے ،حدیث شریف میں ایسے شخص کے لیے تین بار ہلاکت کا تذکرہ آیا ہے جو لوگوں کے ہنسانے کے واسطے جھوٹ بولتا ہے،یا جس میں کسی فرد یا قوم کی ہتک عزت کی گئی ہو یا جس لطیفے کا مقصد فحش گوئی ہو،قرآن پاک اور احادیث میں اس سے ممانعت آئی ہے تا ہم ایسے لطیفوں کے سننے اور سنانے کی گنجائش ہے جس میں جھوٹ نہ ہو،کسی کی دل آزاری نہ ہو اور بہتان کا باعث نہ ہو۔
صورت مسئولہ کے مطابق کسی شخص کے خلاف جھوٹ پر مبنی لطیفے بنانا اور پھر اس کی سوشل میڈیا پر تشہیر کرنا جائز نہیں۔
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ(القرآن الکریم،سورۃ الحجرات،آیت:11)
حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا يحيى بن سعيد، قال: حدثنا بهز بن حكيم قال: حدثني أبي، عن جدي، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ويل للذي يحدث بالحديث ليضحك به القوم فيكذب، ويل له ويل له.وفي الباب عن أبي هريرة, هذا حديث حسن.(أبواب الزهد،باب فيما تكلم بكلمة يضحك بها الناس،ج:4،ص:557)
(وعن بهز) : بفتح موحدة وسكون هاء فزاي (بن حكيم) تابعي قال المصنف: قد اختلف العلماء فيه، روى عنه جماعة، ولم يخرج البخاري ومسلم في صحيحيهما شيئا منه. وقال ابن عدي: ولم أر حديثه منكرا (عن أبيه) أي: حكيم بن معاوية القشيري البصري قال البخاري: في صحبته نظر، روى عنه ابن أخيه معاوية بن حكيم وقتادة. (عن جده) أي: معاوية بن حيدة بفتح حاء مهملة فسكون تحتية ودال مهملة لم يذكره المؤلف. (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ويل) أي: هلاك عظيم أو واد عميق في جهنم (لمن يحدث) أي: لمن يخبر الناس (فيكذب) أي: لا يصدق في تحديثه وإخباره (ليضحك) : بضم أوله وكسر حائه (به) أي: بسبب تحديثه أو الكذب (القوم) بالنصب على أنه مفعول ثان. هكذا في النسخ ويجوز فتح الياء والحاء ورفع القوم، ثم المفهوم منه أنه إذا حدث بحديث صدق ليضحك القوم فلا بأس به، كما صدر مثل ذلك من عمر رضي الله عنه مع النبي - صلى الله عليه وسلم - حين غضب على بعض أمهات المؤمنين. قال الغزالي: وحينئذ ينبغي أن يكون من قبيل مزاح رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فلا يكون إلا حقا ولا يؤذي قلبا ولا يفرط فيه، فإن كنت أيها السامع تقتصر عليه أحيانا وعلى الندور، فلا حرج عليك، ولكن من الغلط العظيم أن يتخذ الإنسان المزاح حرفة، ويواظب عليه، ويفرط فيه، ثم يتمسك لفعل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فهو كمن يدور مع الزنوج أبدا لينظر إلى رقصهم، ويتمسك بأن رسول الله - صلى الله عليه وسلم أذن لعائشة - رضي الله عنها - في النظر إليهم وهم يلعبون (ويل له، ويل له)(مرقاة المصابيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب الادب،باب حفظ اللسان والغيبة والشتم،ج:7،ص:3037)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں