بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

استدراج اور جادو کی تعریف


سوال

کیا استدراج ایسی خارق عادت بات کو کہتے ہیں جو اللہ کا فعل ہوتا ہے لیکن اس کا ظہور کسی فاسق و فاجر یا ملحد و کافر کے ہاتھ پر ہوتا ہے،نیز کیا یہ بات بھی صحیح ہے کہ جادو ایک اسبابی چیز ہے اگرچہ اسباب مخفی ہوں ؟

جواب

          بعض ایسے خلاف عادت کام جو الله تعالى کسی غیر مسلم یا ایسے شخص کے ہاتھ پر ظاہر كرے، جو فاسق، فاجر اور خلاف سنت و شریعت کام کرتا ہو، تو اس کو "استدراج" کہتے ہیں۔

         "جادو" ایک علم ہے جس سے ایسا ملکہ نفسانیہ حاصل ہو جاتا ہے،کہ اس کے ساتھ انسان خفیہ اسباب کی وجہ سےعجیب وغریب افعال پر قادر ہوتا ہے۔

 

كرامات الْأَوْلِيَاء حق هُوَ الْعَارِف بِاللَّه تَعَالَى وَصِفَاته حسب مَا يُمكن المواظب على الطَّاعَات المجتنب عَن الْمعاصِي المعرض عَن الإنهماك فِي اللَّذَّات والشهوات ، وکرامته ظهور أمر خارق للعادۃ من قبله غیر مقارن لدعوی النبوۃ، فما لا یکون مقرونا بالإیمان والعمل الصالح یکون استدارجا، و مايكون مقرونا بدعوى النبوة يكون معجزة.(شرح العقائد، باب كرامات الاولياء، ص:338)

(قوله: والسحر) ‌هو ‌علم ‌يستفاد ‌منه ‌حصول ‌ملكة نفسانية يقتدر بها على أفعال غريبة لأسباب خفية. (رد المحتار على الدر المختار، مقدمه، ج:1، ص:44)


فتویٰ نمبر : 5015/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں