بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

معاہدہ کی خلاف ورزی پر استاد کی سکیورٹی ڈپازٹ روک دینا


سوال

ایک اسکول استاد کے تقرر کے وقت اس بات کا معاہدہ کرتا ہے کہ استاد کی ماہانہ تنخواہ سے دس فیصد رقم ادارہ اس وقت تک کاٹے گا جب تک ایک ماہ کی تنخواہ مکمل نہیں ہو جاتی اور وہ رقم (ایک ماہ کی تنخواہ) سکیورٹی ڈپازٹ کے نام سے اپنے پاس رکھے گا اور استاد کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ جب بھی اسکول چھوڑ کر جائے گا ادارے کو ایک ماہ پہلے آگاہ کرے گا۔ اور اگر استاد ایک دو دن پہلے بتا کر چلا جاتا ہے تو وہ سکیورٹی ڈپازٹ کا حقدار نہیں ہوگا۔ چونکہ ادارے کو استاد کے فوری جانے سے نقصان اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ فوراً دوسرا استاد ملنا ممکن نہیں ہوتا اور بچوں کا بھی حرج ہوتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا استاد کا فوری چھوڑ کر جانا جائز ہے؟ اگر استاد ایک یا دو دن پہلے بتا کر چلا جاتا ہے تو کیا ادراہ اسکا سکیورٹی ڈپازٹ ادا کرنے کا پابند ہے؟

جواب

              اس میں کوئی شک نہیں کہ معاہدہ کی پاسداری کرنا ضروری ہے لیکن کسی کا مال ناحق لینا بھی جائز نہیں ۔لہذاصورت مسؤلہ کے مطابق استاد کو چاہیے کہ معاہدے کی پابندی کرکے ضوابط کے مطابق ادارہ کو چھوڑے،کیونکہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنا مومن کے شان کے لائق نہیں۔ليكن اگر كسی وجہ سے  طے شدہ  شرط یعنی اسکول چھوڑنے کے متعلق مخصوص مدت کی پیشگی آگاہی  پر عمل نہ  ہو، تو اس صورت میں ادارے کا ملازم سے اس كے عوض مکمل  سکیورٹی ڈپازٹ روكنا جائز نہیں۔

 

قال الله تعالیٰ:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾(المائدۃ:11)

(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة  ( ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الاجارة، باب ضمان الأجير، ج:9،ص:94)

"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذمال أحد بغير سبب شرعي" ۔(البحرالرائق فصل في التعزير ج:5، ص:44، دار الکتب العلمیة)

( عقد مخصوص ) أي بلفظ القرض ونحوه ( يرد على دفع مال ) بمنزلة الجنس ( في مثلي ) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك ( لا في غيره ) من القيميات كحيوان وحطب وعقار وكل متفات لتعذر رد المثل۔(الدرالمختار ، کتاب البیوع، فصل فی القرض، ج:7، ص:388)

(ومما يتصل بهذا الفصل إذا جمع في عقد الإجارة بين الوقت والعمل) إذا استأجر رجلا ليعمل له عملا اليوم إلى الليل بدرهم صباغة أو خبزا أو غير ذلك فالإجارة فاسدة في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وفي قولهما يجوز استحسانا ويكون العقد على العمل دون اليوم( الفتاوی الھندیۃ، کتاب الاجارۃ، الباب السادس فى الإجارة على أحد الشرطين أو أكثر، ج4، ص:455)


فتویٰ نمبر : 2992/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں