بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

حلال آمدنی کے ساتھ حرام کا مل جانا


سوال

عرض یہ ہے کہ ایک بندہ نے نیشنل بینک میں PLSاکاونٹ کھولا تھا ،اس میں اس کی سرکاری تنخواہ بھی آتی تھی، لیکن ساتھ ہی کچھ مخصوص فیصدکے لحاظ سے سودی منافع بھی ہر چھ مہینےمیں آتاتھا، یہ سلسلہ تقریباً25 سال سے چلا آرہاتھا، اس ضمن میں کچھ سوالات ہیں ان میں رہنمائی درکار ہے۔1:چونکہ تنخواہ اور سودی منافع کی رقم ،دونوں ایک ساتھ مل گئے تھے،تو اب یہ مجموعی رقم حلال ہے یا حرام ہے؟2:اس  شخص کےخاندان والوں اور بچوں کو اس سودی منافع کا پتہ نہیں تھا، اس دوران ان کی کفالت کے لیے استعمال شدہ رقم ان بچوں کےلیے حلال تھی یاحرام؟3:اب یہ شخص  ان 25 سالوں کی تمام سودی منافع کے مد میں لی ہوئی رقم کو بلا نیت ثواب کسی کو دینا چاہتا ہے، تو اس کےلیے مصارف کون لوگ ہیں ؟4:اگر وہ شخص اس سودی منافع کی رقم کو واپس کرنا چاہتا ہو،لیکن فی الوقت اس کے پاس نقد رقم موجود نہ ہو، توکیا اس کی بجائے اتنی ہی رقم کاپلاٹ دیتا ہو  تو دے سکتا ہے؟نیز اگر اس پلاٹ سے فقیر یا مسکین خود صاحب نصاب  بنتا ہوتو  اس سے مصرف خراب تو نہیں ہوگا؟

جواب

       شریعت مطہرہ کی رو سے جو مال حرام طریقوں سےحاصل کیا جائے وہ مال مالک کو لوٹانا ضروری ہے لیکن اگر مالک معلوم نہ ہو  تو اسے بلانیت ثواب صدقہ کرنا لازم ہے۔ اسی طرح اگر حرام مال کی پوری مقدار معلوم نہ ہو  تو تحری کرے یعنی اندازہ لگائے کہ کتنا مال حرام ذرائع سے حاصل  کیاہے ۔تحری کے بعد حرام  مال  کے بقدر  مال جدا کر کے مالکوں  تک پہنچانے کی کوشش کرے یا اگر مالک  معلوم نہ ہوں  تو بلا نیت ثواب  فقراء پر صدقہ کر دے۔

     صورت ِ مسئولہ کے مطابق(1) مجموعی رقم میں سےتنخواہ کی رقم کےبقدر رقم حلال ہےاور جو رقم سود ی منافع کی صوت میں اس کو ملتی رہی  وہ رقم حرام ہے، متعلقہ بینک سے دونوں مقدار  معلوم کر لیے جائیں۔

(2)مجموعی رقم سے بچوں کی کفالت کےلیے جورقم استعمال کی ہے، تو بچوں کےلیے اس کی گنجائش۔

 (3)25 سالوں کی تمام سودی منافع کے مد میں لی ہوئی رقم کو کسی مستحقِ زکوٰۃ  فقیر، مسکین  کو  بلانیت ثواب صدقہ کردیں۔

(4)سودی رقم  کے بدلے پلاٹ بھی بلانیت ثواب کسی مستحقِ زکوٰۃ کودے سکتا ہے۔

 

﴿إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيم﴾(التوبۃ:الآیۃ:60) 

عليه ديون لأناس شتى لزيادة في الأخذ ونقصان في الدفع فلو تحرى ذلك وتصدق على الفقراء بثوب قوم بذلك يخرج عن العهدة.(الفتاوی الهندية،كتاب الكراهية،الباب الخامس والعشرون في البيع،ج:5،ص:367)

والأصل أن المستحق بجهة إذا وصل إلى المستحق بجهة أخرى اعتبر واصلا بجهة مستحقة إن وصل إليه من المستحق عليه.(الدرالمختارعلی صدرردالمحتار،كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،ج:7،ص:292)

والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.(ردالمحتار،كتاب البيوع،با ب البيع الفاسد،مطلب فيمن ورث مالا حراما،ج:7ص301)


فتویٰ نمبر : 4929/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں