بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

ہنڈی کا کاروبار کرنے کی شرعی حیثیت


سوال

(1) ہنڈی (جو معروف کاروبار ہے)اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟(2) اگر ایک ملک (مثلا: دبئی) سے دوسرے ملک (مثلا: پاکستان) کو رقم بھیجنے والا ہنڈی والے کو نقد رقم نہ دے بلکہ اس سے کہے کہ آپ میرے بھائی وغیرہ کو پانچ ہزار درہم بھیج دیں، میں آپ کو مثلا: ایک مہینے کے بعد پانچ ہزار درہم دے دوں گا.(3)قرض کی صورت میں درہم کی قیمت باہمی رضا مندی سے مارکیٹ ریٹ سے کم طے کی جاتی ہے، تو اس کا شرعا کیا حکم ہے؟

جواب

              واضح رہے کہ کسی غیر رجسٹرڈ شخص یا ادارہ کی وساطت سے ایک ملک کی کرنسی کو دوسرےملک کی کرنسی سے تبدیل کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنا ہنڈی کہلاتا ہے،چونکہ یہ دو مختلف کرنسیوں کا تبادلہ ہےاس لیے اس میں کسی ایک کرنسی پر مجلس عقد میں قبضہ کرنا ضروری ہے، تاکہ بیع الکالی بالکالی (قرض کے بدلے قرض کی بیع) نہ ہو، جو شرعا ممنوع ہے۔

              لہٰذا صورت مسئولہ میں (1)اگر ہنڈی کا کاروبار دو مختلف کرنسیوں میں ہو تو اس شرط کے ساتھ جائز ہوگا کہ کسی ایک کرنسی پر مجلس عقد میں قبضہ کیا جائے، تاہم ہنڈی کا کاروبار چونکہ ملکی قانون کی رو سے ممنوع ہے،اور جو ملکی قانون شریعت کے اصول سے متصادم نہ ہو، اور وہ مفاد عامہ سے متعلق ہو، اس کی پاسداری شرعا بھی ضروری ہوتی ہے، اس لیے قانون کی پاسداری کی خاطر رقوم کی ترسیل کے لیے ہنڈی کی بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

(2) ہنڈی والے سے اس طرح ادھار معاملہ کرنا جائز نہیں کہ مجلس عقد میں کسی بھی کرنسی پر قبضہ نہ ہو،بلکہ دونوں ادھار ہوں، کیوں کہ کرنسی کے تبادلے میں مجلس عقد میں کسی ایک کرنسی پر قبضہ کرنا شرط ہے۔

(3) مختلف کرنسیوں کے تبادلے کی صورت میں باہمی رضا مندی سے کرنسی کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے کم یا زیادہ طے کرنا شرعا جائز ہے۔

عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «السمع والطاعة حق ما لم يؤمر بالمعصية، فإذا أمر بمعصية، فلا سمع ولا طاعة». (صحيح البخاري، كتاب الأحكام، باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية، رقم الحديث:7144، ج:2،ص:1075)

لو باع الفلوس بالفلوس أو بالدراهم أو بالدنانير فنقد أحدهما دون الآخر جاز. (البحرالرائق، كتاب البيع، أبواب السلم، ج:6،ص:219)

قال وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء لعدم العلة المحرمة. (الهداية، كتاب البيع، باب الربو، ج:3،ص:83)

لا بد من قبض أحدهما ليخرج العقد عن الكالىء بالكالىء. (الهداية، كتاب البيع، مسائل منثورة، ج:3،ص:111)


فتویٰ نمبر : 2994/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں