بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 26/10/2026 |
دارالافتاء
فیشن کے لیے ناخن بڑھانے کا حکم
سوال
آج کل لوگ فیشن کے لیے ناخن کو بڑھا لیتے ہیں اور اس میں مرد وزن دونوں مبتلا ہیں عورت فیشن کے طور پر تمام ناخن جبکہ مرد اکثرچھنگلی انگلی کے نا خن کو نہیں کاٹتے شرعا اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ ناخن کاٹنا فطرت انسانی کا تقاضا ہے اس لیے شریعت نے بھی حکم دیا ہے کہ اس کو بڑھنے نہ دیا جائے چنانچہ حدیث شریف میں حضور نے ناخن کاٹنے کوفطرت كا حصہ قرار دیا ہے،اور چالیس دن کے اندر اندر کاٹنے کو لازم قرار دیا ہے ۔
فقہاےکرام فرماتے ہیں کہ ہفتہ میں ایک بار یعنی جمعہ کے دن ناخن کاٹنا مستحب ہے، جبکہ چالیس دن سےزیادہ تک ناخن نہ کاٹنا یا بعض کو کاٹنا اور بعض کو چھوڑ دینا خلاف سنت اور مکروہ تحریمی عمل ہے ، اس سے بنده گنہگار ہو جاتا ہےایسے شخص کے متعلق احادیث مبارکہ میں وعیدیں بھی آئی ہیں کہ اس کے رزق میں تنگی ہوگی ،لہذا فیشن کے طور پرناخن لمبے چھوڑنے سے احتراز کرنا ضروری ہے ۔
عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك، والاستنشاق بالماء، وقص الأظفار. . . (سنن أبي داؤد، كتاب الطهارة، باب السواك من الفطرة،ج1،ص19)
عن أنس بن مالك قال:وقت لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قص الشارب، وتقليم الأظفار، وحلق العانة، ونتف الإبط، لا يترك أكثر من أربعين يوما۔(سنن الترمذي،باب في التوقيت في تقليم الأظفارج2،ص565)
(ويستحب قلم أظافيره) إلا لمجاهد في دار الحرب فيستحب توفير شاربه وأظفاره (يوم الجمعة) وكونه بعد الصلاة أفضل، إلا إذا أخره إليه تأخيرا فاحشا فيكره، لأن من كان ظفره طويلا كان رزقه ضيقا وفي الحديث من قلم أظافيره يوم الجمعة أعاذه الله من البلايا إلى الجمعة الاخرى وزيادة ثلاثةأيام درر. (الدر المختار،كتاب الحظر والاباحة،باب الاستبراء وغيره،ج9،ص580)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں