بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لفظ "ہاں "سے نکاح کا انعقاد


سوال

آج کل نکاح میں جب کوئی مولانا صاحب ایجاب وقبول کراتا ہے تو لڑکا یا لڑکی کا ولی قبول میں صرف ہاں کہتا ہے ،یعنی یوں نہیں کہتا کہ میں نے قبول کی ہے یا مثلا میں نے اپنی بیٹی کو اس کے نکاح میں دیا ہے تو کیا اس سے نکاح منعقد ہوتا ہے یا صراحتا الفاظ کہنا ضروری ہے؟

جواب

            اگر کوئی شخص کسی سوال کے جواب میں ہاں یا نہیں وغیرہ سے مختصر جواب دےدے تو شرعا جواب اسی سوال کے مضمون پر مشتمل سمجھا جاتا ہے ۔

      لہذا صورت مسؤلہ  کے مطابق اگر  ایجاب وقبول کرانے والے   شخص کے جواب میں لڑکا،لڑکی یا ان کے ولی نے قبول میں صرف"ہاں"کہا ہو تو ایسی صورت میں یہ قبول اس پورےمضمون پرمشتمل شمار ہو گا جس کا ذکر ایجاب کرانے والے کے کلام  میں کیا گیا ہےلہذا اس سے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ 

 

ولو قال لامرأة: كنت لي أو صرت لي فقالت: نعم، أو صرت لك؛ كان نكاحا، كذا في الذخيرة (الفتاوی الهندیه،كتاب النكاح،ج1،ص336)

القاعدة الحادية عشرة : السؤال معاد في الجواب قال البزازي في فتاواه من أواخر الوكالة : وعن الثاني لو قال : امرأة زيد طالق وعبده حر و عليه المشي إلى بيت الله تعالى الحرام إن دخل هذه الدارة فقال زيد : نعم كان زيد حالفا بكله لأن الجواب يتضمن إعادة ما في السؤال(الاشباہ والنظائر،ج1،ص380)


فتویٰ نمبر : 6406/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں