بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طواف زیارت حیض کی حالت میں کرنے سے ذمے پر لازم قربانی سے عاجز کے لیے حکم


سوال

اگر کسی عورت کودوران حج طواف زیارت سے پہلے حیض آجائے جس کی عادت 7 یا 8 دن ہو اور وہ عورت وہاں رک نہ سکتی ہو بلکہ واپسی پر مجبور ہو تو ایسی صورت میں فقہی عبارات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہ عورت کسی بھی طریقے سے رک کر طواف زیارت کر کے جائے یا بصورت دیگر وہ اسی ناپاکی  کی حالت میں طواف کر لے اور پھر بدنہ ادا کرے ۔جیسا کہ البحر الرائق میں ہے :فأفاد أن طوافها حرام، وهو من وجهين دخولها المسجد وترك واجب الطهارة فإن الطهارة واجبة في الطواف فلا يحل لها أن تطوف حتى تطهر فإن طافت كانت عاصية مستحقة لعقاب الله ولزمها الإعادة فإن لم تعد كان عليها بدنة، وتم حجها۔فقط۔۔۔۔۔(البحرالرائق:2/649،مکتبہ رشیدیۃ)اور علامہ سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:ولأن المنع من الجنابة من وجهين من حيث الطواف، ومن حيث دخول المسجدومنع المحدث من وجه واحد فلتفاحش النقصان هنا قلنا يلزمه الجبر بالبدنة، وهو مروي عن ابن عباس - رضي الله عنه - قال البدنة في الحج تجب في شيئين على من طاف جنبا، وعلى من جامع بعد الوقوف۔۔۔۔۔وعلى هذا لو طافت المرأة للزيارة حائضا فهذا، والطواف جنبا سواء۔فقط۔۔۔۔۔(كتاب المبسوط ،مكتبۃرشيدية:4/45)مگر سوال یہ ہے کہ حیض کا آنا اور عادت سے پہلے پاک ہونا عورت کے اختیار میں نہیں ،بر خلاف عام جنابت کے ،کیونکہ اس سے پاک ہونا آدمی کے اپنے اختیار میں ہے ۔اور دوسری بات یہ کہ ایسی حالت میں عورت مجبور محض ہے ،بر خلاف عام مریضوں کے، کیونکہ اس کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اسی مرض کے ساتھ حج کو جاری رکھے یا پھر کفارہ ادا کرےجس میں مختلف اختیارات ہیں ،جیسا کہ :عن كعب بن عجرة رضي الله عنه، قال: أتى علي رسول الله صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية۔۔۔۔۔فقال: «أيؤذيك هوام رأسك؟» قال قلت: نعم، قال: «فاحلق، وصم ثلاثة أيام، أو أطعم ستة مساكين، أو انسك نسيكة»۔(صحيح مسلم :1201)أو حلق من عذر فهو مخير إن شاء ذبح شاة وإن شاء تصدق على ستة مساكين بثلاثة أصوع من الطعام وإن شاء صام ثلاثة أيام۔فقط۔۔۔۔۔(الهداية:2/270،مکتبۃ البشری)

تمام  فقہی عبارات سر آنکھوں پر مگر ایسے وقت میں ایک غریب یا متوسط خاندان کی عورت کیا کرے جب کہ احناف کے نزدیک طواف کے لیے طہارت شرط نہیں ۔والدليل على أنها ليست بشرط في الطواف ،أن الطواف ركن من أركان الحج،فلم تكن الطهارةمن شرطه كالوقوف۔فقط۔۔۔۔۔(الجوهرةالنيرة:1/384مکتبۃ رحمانیۃ)اور قرآن مجید کا بھی حکم ہےکہ:لا یکلف اللہ نفسا إلا وسعھا ۔۔۔۔۔۔(البقرة:286)

جواب

          واضح رہے کہ اگر کوئی عورت حیض یا نفاس  کی حالت میں طواف زیارت کرلے تو قربانی کے  بڑے جانور (اونٹ،گائے،بیل، بھینس وغیرہ )کی شکل میں دم واجب ہوتا ہے لیکن اگر پاکی کی حالت میں اس طواف کا اعادہ کر لیا جائےتو پھر وہ دم ساقط ہو جاتا ہےاوراگر طواف کرنے کا موقع نہ ملے اور تنگ دستی کی وجہ سے قربانی کرنے پر بھی قدرت نہ ہو تو استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی سے استغفار کرے گی جیسے شیخ فانی کو فدیہ کی استطاعت نہ ہو تو استغفار کرنے کا حکم ہے اور جب بھی اس عورت کو قربانی یا دوبارہ طواف کرنے پر قدرت حاصل ہو تو اس کی ادائیگی اس کے ذمے لازم ہو گی ۔

         مسؤلہ  صورت میں اگر  غریب یامتوسط خاندان کی عورت کو طواف زیارت سے پہلے حیض  آ جائے اور وہ واپسی پر مجبور ہو تو  اس کے لیےبامرِمجبوری ناپاکی کی حالت میں طواف زیارت کر کےاپنے حج کے فریضہ سے سبکدوش ہونے کی گنجائش موجود ہےالبتہ  ایک قربانی کا بڑا جانور (اونٹ،گائے،بیل، بھینس وغیرہ )حرم میں ذبح کرنا اس کے ذمےلازم ہو گا اور اگر تنگ دستی کی وجہ سے قربانی کرنے پر بھی قادر  نہ ہو تو استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی سے استغفار کرتی رہے اورجب بھی  طواف یا قربانی کرنے  پر قادر ہو تو اس کی ادا ئیگی ضروری ہو گی   ۔

لو حاضت بعدما قدرت على الطواف فلم تطف حتى مضى الوقت لزمها الدم لأنها مقصرة بتفريطها اهـ أي بعدما قدرت على أربعة أشواط. زاد في اللباب فقولهم لا شيء عليها لتأخير الطواف مقيد بما إذا حاضت في وقت لم تقدر على أكثر الطواف أو حاضت قبل أيام النحر ولم تطهر إلا بعد مضيها.(ردالمحتار على الدر المختار،مطلب في طواف الزيارة،ج:2،ص:519)

ولو طاف طواف الزيارة محدثا فعليه شاة، وإن كان جنبا فعليه بدنة وكذا لو طاف أكثره جنبا أو محدثا والأفضل أن يعيد الطواف ما دام بمكة ولا ذبح عليه والأصح أن يعيد في الحدث ندبا وفي الجنابة وجوبا ثم إن أعاده وقد طاف محدثا لا دم عليه، وإن أعاده بعد أيام النحر، وإن أعاده وقد طاف جنبا في أيام النحر لا شيء عليه.(الفتاوى الهندية،كتاب الحج،ج:1،ص:245)

ولأن المنع من الجنابة من وجهين من حيث الطواف، ومن حيث دخول المسجد ومنع المحدث من وجه واحد فلتفاحش النقصان هنا قلنا يلزمه الجبر بالبدنة، وهو مروي عن ابن عباس - رضي الله عنه - قال البدنة في الحج تجب في شيئين على من طاف جنبا، وعلى من جامع بعد الوقوف، وإن أعاد طوافه سقطت عنه البدنة، ۔۔۔۔۔۔وعلى هذا لو طافت المرأة للزيارة حائضا فهذا، والطواف جنبا سواء.(كتاب المبسوط،كتاب المناسك،باب الطواف،ج:4،ص:39)

(وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبا ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير كالفطرة لو موسرا وإلا فيستغفر الله۔(الدر المختار علی صدر ردالمحتار،فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم،ج:2،ص:427)


فتویٰ نمبر : 9034/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں