بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ضرورت یا مصلحت کی خاطر تصویر کا حکم


سوال

ڈیجیٹل تصویر کے  متعلق  علمائے کرام کی دو سے تین رائے پائی جاتی ہیں لیکن پرنٹ تصویر کے بارے میں تقریبا تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ بلاضرورت شدیدہ کھینچنا اور کھنچوانا حرام ہے۔ لیکن اس سے متعلق ذہن میں ایک سوال ہے کہ نفلی عبادات یا نفلی امور کے لئے پرنٹ تصویر بنوانا جائز ہے یا نہیں؟  نفلی حج ، عمرہ یا ایسی تعلیم کے حصول کے لئے جو صرف مستحب یا اس سے کم درجہ کا ہے کیا اس کے لئے ایک حرام کام کی اجازت دی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ خاص طور پر جب کہ حکومت کی طرف سے ایسے نفلی کام کرنے پر جبر بھی نہ ہو مثلا اعلی تعلیم کےحصول کے  لیے اور کفایت المفتی کے حوالہ سے جو بات لکھی جاتی ہےکہ حضرت نےپاسپورٹ وغیرہ بنانے کی اجازت دی ہے اس کو ہم ایسے کام پر تو محمول کرسکتے ہیں کہ جس کے نہ ہونے کی صورت میں ضرر لاحق ہو مثلا :فرض حج کے لئے جانا ،شناختی کارڈ بنوانا وغیرالبتہ مستحب کام کے لئے ناجائز کام کی اجازت نہ ہو گی ، جیسا کہ جمعہ کے دن امام کے قریب بیٹھنے کے لئے لوگوں کے کندھوں کو پھلانگنے کی  اجازت نہیں اور اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں جن میں مستحب کام کے لئے ناجائز کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تو ایسی صورت میں پرنٹ تصویر کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

             واضح رہےکہ جاندار کی پرنٹ شدہ تصویر جمہور فقہاء کے نزدیک حرام ہے تاہم ضرورت و حاجت یا  شرعا معتبر(جائز) مصلحت کے لیے اس کی گنجائش پائی  جاتی ہے  جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بچیوں  کے لیےکھلونوں کی اجازت منقول ہے کیونکہ اس سے ان کی فطری ممتا کی تربیت ہوتی ہے۔ تعلیم ،تبلیغ ،تجارت وغیرہ بھی جائز ضروریات  یا مصالح میں سے ہیں، اس لیے ان کے لیے بھی تصویر کی گنجائش ہو گی ۔

 

عن عائشة رضي الله عنها، قالت: كنت ألعب بالبنات عند النبي صلى الله عليه وسلم، وكان لي صواحب يلعبن معي، "فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل يتقمعن منه، فيسربهن إلي فيلعبن معي"

واستدل بهذا الحديث على جواز اتخاذ صور البنات واللعب من أجل لعب البنات بهن وخص ذلك من عموم النهي عن اتخاذ الصور وبه جزم عياض ونقله عن الجمهور وأنهم أجازوا بيع اللعب للبنات لتدريبهن من صغرهن على أمر بيوتهن وأولادهن قال وذهب بعضهم إلى أنه منسوخ واليه مال بن بطال۔( فتح الباري لابن حجر،باب الانبساط إلى الناس،ج: 10،ص: 527)

وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير صورة الحيوان فإنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم  ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم ودينار وفلس وإناء وحائط وغيرها، فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل لتواتره ۔(البحر الرائق ،باب ما يفسد الصلوة وما يكره فيها،ج:2،ص:29)

الضرورات تبيح المحظورات۔(الأشباه والنظائر لابن نجيم،ص:72)


فتویٰ نمبر : 4935/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں