بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ دینے میں مستحق ِزکوۃ کی ضرورت کی رعایت


سوال

ہم گزشتہ کئی سالوں سے اپنے خاندان کے مخیر ،بااثر اور صاحب ِاستطاعت لوگوں سے زکوۃ کی رقم جمع کرتے ہیں اور اپنے خاندان ہی میں سے مستحقین ِ زکوۃ (جن میں بیوہ عورتیں ،یتیم بچے، بیمار بزگ اور عورتیں شامل ہیں )کے درمیان مہینے کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں۔ بسا اوقات برادری میں کسی کو اشد ضرورت ہو مثلاً بچی کی شادی یا ڈاکٹر دوائی یا تعلیمی ضرورت ہو ، تو ان کو بھی یہ رقم دی جاتی ہے۔اور اسی طرح مستحق افراد میں سے اگر کوئی ضرورت مند چھوٹا کاروبار کرنا چاہتا ہو تو اس کو بھی زکوٰۃ کی رقم دی جاتی ہے۔اب دریافت ِطلب امر یہ ہے کہ ہمیں سالانہ زکوٰۃ کی جتنی رقم وصول ہو جاتی ہےتو مستحقین کو دینے کے بعد کچھ رقم ہمارے پاس بقایا رہ جاتی ہے، تو ان بقایا رقوم  کو اسی سال ختم کرنا ضروری ہوتا ہے یا نہیں؟کیا ہماری برادری کی اس طرح زکوٰۃ کی وصولی اور ادائیگی  کی یہ ترتیب درست ہےیا نہیں ؟اگراصلاح کی ضرورت ہو تو وہ بھی بتائیں۔

جواب

   جو شخص  نصاب(ساڑھے سات تولے سونے یا ساڑھے باون  تولے چاندی یا ان میں سے کسی ایک کے بقدر مالِ تجارت یا نقد مالیت )کا مالک  نہ ہو اس کو زکوۃ اور دیگر صدقات واجبہ  دیئے جا سکتے ہیں۔

    صورت ِمسؤلہ کے مطابق اپنے خاندان  کے صاحب ِنصاب  لوگو ں سے  زکوۃ کی رقم  اکٹھی کر کےمستحقِ زکوۃ رشتہ دارو ں میں تقسیم  کرنا زیادہ  افضل اور باعث ثواب ہے ۔تاہم فقہاے کرام ؒ کی تصریحات کے مطابق کسی ایک شخص کو اتنی زکوۃ دینا   جس سے وہ صاحب ِ نصاب  ہو جائے مکروہ ہے  لہٰذا مستحق کویک مشت  نصاب کی مقدار میں زکوۃ نہ دی جائے ،البتہ اگر کوئی مستحق ِزکوۃ  قرض دار ہو  یا  اس کے اہل و عیال زیادہ ہوں یا اس کو کوئی اور ضرورت در پیش ہو جس کو پورا کرنے کے لیے زیادہ رقم کی ضرورت ہو  تو  اس کو مد نظر رکھ کر نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ  رقم دی جا سکتی ہے ۔

     زکوٰۃ کی رقوم وصول کرنے کے بعد سال کے دوران میں ہی مستحقین تک پہنچانا چاہیےکیونکہ اگر زکوٰۃ دینے والوں میں سےکوئی فوت ہوجا ئے اور اس کی رقم ابھی مستحق تک  نہ پہنچی ہوتو وہ اس کے ورثا کا حق بن جاتی ہے لہٰذا زکوٰۃ کی رقم وصول کرنے کے بعد مستحقین تک پہنچانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔رشتہ دار مستحقین کو دینے سے جو رقم بچ جائے  وہ دیگر مستحقین میں تقسیم کر دی جائے،۔

 

وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى لأنه صلة وصدقة ۔(رد المحتار،كتاب الزكوة،باب المصرف ج3ص293)

( وكره إعطاء فقير نصابا ) أو أكثر ( إلا إذا كان ) المدفوع إليه ( مديونا و ) كان ( صاحب عيال ) بحيث ( لو فرقه عليهم لا يخص كلا ) أو لا يفضل بعد دينه ( نصاب ) فلا يكره۔(الدر المختار،كتاب الزكوة،ج3ص303)

قوله ( وندب إغناؤه عن السؤال ) وينبغي أن ينظر إلى ما يقتضيه الحال في كل فقير من عيال أو حاجة كدين وثوب قال في النهر واقتضى كلامه أن الكثير لواحد أولى من توزيعه على جماعة۔(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح،باب المصرف،ص593)


فتویٰ نمبر : 9037/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں