بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

دکاندار کا اپنے اکاونٹ میں رقم منتقل کرکے کسٹمر کو اپنی طرف سے رقم دینے پر کمیشن لینا


سوال

میں نے جاز کیش کا اکاؤنٹ کھولا ہے ، جس کا کمپنی کی طرف سے وضع کردہ  طریقہ  یہ ہے کہ ہر شہر میں کمپنی کے اپنے ایجنٹ ہوتے ہیں جن کے ذریعے رقوم کی ترسیل کا کام سرانجام دیا جاتا ہے۔ رقوم کی منتقلی کے عوض کمپنی اجرت لیتی ہے، مثلاً: ہزار روپے پر بیس روپے لیتی ہے۔ یہ پیسے دکاندار یا تو  رقم بھیجنے والے سے لیتا ہے یا جس کو رقم بھیجی جاتی ہےاس سےلیتا ہےاور یہ نفع کمپنی کو ملتا ہے اور ایجنٹ کو اس کا کمیشن ملتا ہے۔ بعض ایجنٹ کمپنی کے طریقے کے بر خلاف ایسا کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص اکاؤنٹ سے پیسے نکلواتا ہےتو ایجنٹ اس کے اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے کی بجائےاپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرتے ہیں اور اسے اپنے جیب  سے پیسے دے کر اس پر بیس روپے اضافی لیتے ہیں جو کہ ایجنٹ  کے ہوتے ہیں ۔ تو کیا دکاندار کا یہ طریقہ اختیار کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

       شریعت مطہرہ کی رو سے خدمات  کے عوض اجرت حاصل کرنا اجارہ کہلاتا ہے عقد اجارہ کی صحت کے لیے جو شرائط ہیں ان کی رعایت رکھنے کی صورت میں یہ عقد جائز ہے۔

      صورت مسؤلہ میں کسی دوکاندار کا اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں کسٹمر کی رقم منتقل کرکے کسٹمر کو نقدرقم دینااور اس سہولت و خدمت کی فراہمی کے عوض بیس روپے اجرت لیناجائز ہے  ،تاہم کسٹمرکو اجرت سے متعلق پہلے آگاہ کردینا ضروری ہےتاکہ بعد میں باہم تنازع کا سبب نہ بنے۔

 

وان وردت الإجارة على العمل كالخياطة و الصبغ ،  فلا يجب الأجر مالم يفرغ الأجير من العمل. (شرح المجلة لسليم رستم باز، كتاب الإجارة ، الباب الثالث ، ص/265)

(فالأول من يعمل لا لواحد ) كالخياط ونحوه ( أو يعمل له عملا غير موقت.....(ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل).(الدر المختار ، كتاب الإجارة ، باب ضمان الأجير ، 9/94)


فتویٰ نمبر : 2983/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں