بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 27/07/2026 |
دارالافتاء
شرکت میں ایک شریک کے لیے بطور منافع مخصوص رقم دینا
سوال
میرا دوست دبئی میں موبائیل کا کاروبار کرتا ہے، میں اس کو رقم دے کر کاروبار کرنا چاہتا ہوں، وہ مجھ سے کہتا ہے کہ آپ مجھے رقم دے دیں، روزانہ جتنے موبائیل بکیں گے، ہر موبائیل میں آپ کو پانچ درہم دوں گا، اس میں تاوان کا کچھ پتہ نہیں چلتا، کیا یہ سود میں داخل ہے یا نہیں؟ نیز وہ کہتا ہے کہ میں ہول سیلر سے موبائیل خریدتا ہوں اور وہ مجھے ہر موبائیل میں دو فیصد منافع دیتا ہے،تو میں آپ کی رقم اسے دے کر موبائیل خریدوں گا اور ہول سیلر کی جانب سے جو دو فیصد منافع دیا جاتا ہے اس میں سے ایک فیصد منافع آپ کے ہوں گے، باقی موبائیل جتنی قیمت پر بھی بک جائے، خواہ زیادہ ہو یا کم، بہر صورت وہ منافع یا تاوان میرا ہوگا، تو اس کا شرعا کیا حکم ہے؟
جواب
شریعت مطہرہ نے انسانی ضرورت کے تحت دو یا زیادہ آدمیوں کو کاروبار میں شریک ہونے کی اجازت دی ہے، تاہم شرکت میں حاصل شدہ منافع کا تمام شرکا کے درمیان تناسب (فیصد) کے لحاظ سے تقسیم ہونا ضروری ہے، اس لیے جہاں کہیں کسی شریک کے لیے منافع میں سے مخصوص مقدار متعین کی جائے تو اس صورت میں شرکت جائز نہیں رہتی۔ نیز شرکت میں نقصان بھی دونوں شرکا کے درمیان سرمایہ کے بقدر مشترک ہوتا ہے، اس لیے کسی ایک شریک کا تاوان کی ذمہ داری لینا بھی شرکت میں جائز نہیں۔
لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ ایک شریک کے لیے کاروبار کے منافع میں سے مخصوص مقدار مثلا: ہر موبائیل میں پانچ درہم دینے کا معاہدہ ہے، جو شرعا جائز نہیں۔نیز ہول سیلر کی جانب سے دیے جانے والے دو فیصد منافع میں سے ایک فیصد اس طور پر دینا کہ خواہ منافع دو فیصد ہوں یا زیادہ ہوں یا کم ، بہر صورت دوسرے شریک کو ایک فیصد دینے کا معاہدہ کرنا بھی ایک شریک کو مخصوص مقدار میں منافع دینے، اور ایک شریک کا نقصان قبول کرنے کا التزام ہے، اس لیے یہ صورت بھی شرعا جائز نہیں۔ البتہ اگر باہمی رضا مندی سے اس طرح معاہدہ کیا جائے کہ کاروبار میں جو بھی منافع حاصل ہوں وہ دونوں کے درمیان تناسب (مثلا: دونوں شرکا کو پچاس پچاس فیصد یا ایک شریک کو ساٹھ اور دوسرے کو چالیس فیصد وغیرہ) کے لحاظ سے تقسیم ہوں گے، تو یہ معاملہ شرعا جائز ہوگا، البتہ اس صورت میں اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ جس کا سرمایہ کم ہو اور عمل بھی اس کا نہ ہو تو اس کے لیے اس کے سرمایہ کی نسبت سے زیادہ منافع دینا جائز نہیں۔
ولا تجوز الشركة إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح. (الهداية، كتاب الشركة، فصل: لا تنعقد الشركة إلا بالدراهم، ج:2، ص:611)
ومنها أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة. (بدائع الصنائع، كتاب الشركة، فصل في شروط أجزاء هذه الأنواع، ج:7،ص:509)
وإن شرطا العمل على أحدهما فإن شرطاه على الذي رأس ماله أقل جاز ويستحق قدر ربح ماله بماله والفضل بعمله وإن شرطاه على صاحب الأكثر لم يجز لأن زيادة الربح في حق صاحب الأقل لا يقابلها مال ولا عمل ولا ضمان. (بدائع الصنائع، كتاب الشركة، فصل في شروط أجزاء هذه الأنواع، ج:7،ص:518)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 302
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 232
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 845
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 423
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 107
- کتاب النکاح | فتاوئ : 533
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 462
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 35
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 55
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 441
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 94
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 72
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 66
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 166
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 372
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 196
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 142
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 57
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 18
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 36
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 304
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1131
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 368
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 17
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں