بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ترکہ سے حاصل شدہ منافع کی تقسیم


سوال

 میرے والد صاحب کا انتقال 1998ء میں ہوا تو ہم بھائیوں نے میراث کو تقسیم کرکے اسے کاروبار میں لگا دیا جو کہ اب تک جاری ہے ساتھ ساتھ ہم نے تین بہنوں کو ان کا حصہ  بھی دے دیا لیکن ہماری ماں کا حصہ اب تک کاروبار میں برابر چلا آرہا ہےجو  ان کے حوالہ نہیں کیا گیا ۔ اب ہم ماں کو حصہ دینا چاہتے ہیں تو کیا تقسیمِ میراث کے وقت کا حصہ ان کو دیں گے یا اب جتنا حصہ کاروبار میں ان کا بنتا ہے اس کے مطابق دینا لازمی ہوگا۔

جواب

             واضح رہے کہ مشترکہ مالِ میراث میں جب کوئی وارث اپنی طرف سےتصرف کرے اور دیگر ورثا کی طرف سے اسے نہ صریحی اجازت حاصل ہو اور نہ اشارۃً،  تب اس مشترکہ مالِ میراث کا نفع حاصل ہونے کی صورت میں اسے فقراء پر صدقہ کرنا لازمی ہوگا  لیکن دیگر ورثا کی طرف سے اگرتصرف کی اجازت ہو تو  یہ اجازت اگربطور کاروبار میں شرکت کےہے تب حاصل شدہ نفع میں سب شریک ہوں گے اور اگر اجازت بطور قرض کے ہو تب نفع سارا کا سارا تصرف کرنے والے کا ہی شمار ہوگا۔

                صورت مسئولہ میں اگر والدہ کا حصہ ان کی اجازت سے کاروبار میں لگایا ہو تو اگر والدہ کی اجازت بطور قرض تھی تب نفع میں ان کا حصہ نہ ہوگا اور اگر اجازت بطور کاروبار میں شرکت کےتھی تو نفع میں بھی  ان کاحصہ ہوگا  لیکن اگر  والدہ کا حصہ  اس طرح خرچ کیا ہو کہ ان کی طرف سے نہ صراحتاً اجازت تھی اور نہ دلالۃًتو ایسی صورت میں  ان کے حصہ سے حاصل شدہ نفع کو فقراء پر صدقہ کرنا لازمی ہوگا۔

 

(إذا أخذ أحد الورثة مبلغاً من الدّراهم من التركة قبل القسمة بدونِ إذنِ الآخرين و عمل فيه و خسر فتكون الخسارة عائدة إليه كما أنّه إذا ربح فلا يسوغ لبقيّةِ الورثةِ طلبُ حصّةٍ منه) لأنه إما غاصب أو مستودع، وكل منهما استربح فيما في يده لنفسه، يكون ربحه له لا للمالك، لكن يملكه ملكا خبيثا سبيله التصدق على الفقراء. ( شرح المجلة، المادة:1090، ج:4، ص:29-30)


فتویٰ نمبر : 3186/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں