بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/08/2026 |
دارالافتاء
"طلاقہ ئے طلاقہ ئے،زہ تہ نہ ساتم"سے طلاق
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا"طلاقه ئےطلاقه ئے، زه ته نه ساتم" تو اس سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
جواب
واضح رہے کہ صریح الفاظ کے ساتھ طلاق دینے سے بغیر نیت کے طلاقِ رجعی واقع ہوجاتی ہے، جب کہ کنائی الفاظ میں نیت کا اعتبا ر ہوتا ہے ۔ نیز طلاقِ صریح کے بعد طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں کسی شخص کا اپنی بیوی کو"طلاقه ئےطلاقه ئے " کہنےسے دو طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہیں، جب کہ " زه ته نه ساتم " چونکہ کنائی الفاظ ہیں ، اس لیے اس سے طلاق کا وقوع اس کی نیت پر موقوف ہوگا کہ اگراس سے اس کی نیت طلاق دینے کی ہو تو اس سے تیسری طلاق واقع ہوکر بیوی طلاقِ مغلظہ کے ساتھ مطلقہ ہوگی، لیکن اگر اس سے طلاق کی نیت نہ کی ہو، بلکہ محض تاکید کے لیے کہا ہو تو اس سے تیسری طلاق واقع نہ ہوگی، لہذا شوہر کو عدت کے دوران تجدیدِ نکاح کے بغیر رجوع کا حق حاصل ہوگا، البتہ آئندہ کے لیے اس کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔
(الطلاق على ضربين: صريح وكناية، فالصريح قوله: أنت طالق، ومطلقة، وطلقتك، فهذا يقع به الطلاق الرجعي)؛ لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق، ولاتستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص، ولا يفتقر إلى النية۔(الهداية، كتاب الطلاق، باب إيقاع الطلاق، ج:2، ص: 378)
الكنايات(لاتطلق بها) قضاء(إلا بالنية أو دلالة الحال)۔(الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:4، ص:528)
والطلاق البائن يلحق الطلاق الصريح۔(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات،ج:1، ص:377)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں