بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مورث کی زندگی میں اپنا حصہ لے کر میراث میں اپنے حق سے دستبردار ہونا


سوال

اگر ایک شخص زندگی میں اپنے والد (مورث) سے اس بات پر معاہدہ کرے کہ مجھے اپنی زندگی میں میرا حصہ دے دومیں آپ کے انتقال کے بعد آپ کی میراث میں سے حصہ نہیں لوں گا۔ تو کیا اس طرح معاہدہ کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اور زندگی میں دینے کی صورت میں بیٹے کو والد کے انتقال کے بعد میراث میں سے حصہ ملے گا یا نہیں؟ نیز اگر وہی زندگی میں لیا گیا حصہ وارث کے پاس بعینہ موجود ہے اور مرحوم کے انتقال کے بعد اس کو واپس کرنا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اس کے بجائے میراث میں سے حصہ دیا جائے، تو اس طرح واپس کرنے کا شرعی نقطہ نظر سے کیا حیثیت ہے؟ یعنی واپس کرسکتاہے یا نہیں؟ فقہ حنفی کی روشنی میں مکمل حوالہ جات کے ساتھ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

          آدمی  اپنی زندگی میں اپنی مملوکہ جائیداد کا خود حق دارہوتا ہے کسی بھی رشتہ دار کو یہ حق  حاصل نہیں ہوتا کہ اس کی زندگی میں اس سے حصے کا مطالبہ کرے،اور اس کے بدلے میں حصہ میراث سے دستبردار ہو جائے،تا ہم اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں  اپنی مرضی سے اپنے کسی بیٹے یا کسی اور رشتہ دارکو کچھ دے دے،اور وہ اپنی زندگی میں اس پرقبضہ کرے،تو شرعا یہ ہبہ متصور ہوگا،اوراس کا میراث سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

          صورت مسئولہ میں بیٹے کےلیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ  اپنے باپ سے اس شرط پر معاہدہ کرے کہ وہ اس کو زندگی میں کچھ مال دے دے  اس کے بدلے وہ میراث میں کچھ نہیں لے گا ،تا ہم اگر باپ اپنی مرضی سے کچھ دے دے تو یہ ہبہ متصور ہوگا،چنانچہ  اس سے بیٹا میراث سے محروم نہیں ہوگا،البتہ بیٹے کو چاہیے کہ  وہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے مصالحت کے طور پر کچھ لے  کر اپنے حق سے  دستبردار ہوجائے،تا ہم  یہ اس کی رضامندی اور اختیار پر ہوگا،دیگر رشتہ داروں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ جبری طور پر اس کو میراث سے محروم کریں۔

الإرث ‌يثبت بعد موت المورث۔(البحر الرائق،كتاب الفرائض،ج:9،ص:364)

قال النووي: أجمعوا على أن ‌من ‌وعد ‌إنسانا شيئا ليس بمنهي عنه فينبغي أن يفي بوعده۔۔۔فلو تركه فاته الفضل وارتكب المكروه كراهة شديدة۔(مرقاة المفاتيح،كتاب الأدب،باب المزاح،ج:9،ص:130)


فتویٰ نمبر : 3188/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں