بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

غیر مسلم کے دھلے ہوئے کپڑوں کا حکم


سوال

اگر دھوبی غیر مسلم ہواور اس نے ناپاک کپڑے دھولئے ہوں تو وہ پاک ہوں گی یا نہیں ؟

جواب

           اگر کپڑوں پر نجاست لگ جائے تو اس کے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس جگہ نجاست لگی ہو اس جگہ کو تین مرتبہ اس طور پر دھولیا جائے کہ ہر مرتبہ پانی اچھی طرح نچوڑ لیا جائے ،اس طرح تین مرتبہ کرلینے سے کپڑے پاک ہوجاتے ہیں چاہے دھونے والا مسلم ہو  یا غیر مسلم۔

        لہذا اگر غیر مسلم دھوبی مذکورہ طریقہ پر کپڑے دھوتا ہو کہ  تین مرتبہ  اچھی طرح نچوڑ  لیتا ہوں تو اس سے کپڑے پاک ہوجائیں گے اور ان کپڑوں میں نماز پڑھنا درست ہوگا۔

 

"و" يطهر محل النجاسة "غير المرئية بغسلها ثلاثا" وجوبا وسبعا مع الترتيب ندبا في نجاسة الكلب خروجا من الخلاف "والعصر كل مرة" تقديرا لغلبة في استخراجھا فی ظاہر الروایة.(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:باب الأنجاس والطهارة عنها،ص 161  )

(و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد به يفتى.

(وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثا) أو سبعا (فيما ينعصر) مبالغا بحيث لا يقطر، ولو كان لو عصره۔(الدر المختار على صدر رد المحتار:كتاب الطهارة،باب الأنجاس،ج 1،ص 331 )


فتویٰ نمبر : 9075/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں