بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سجدہ سہو کی حکمت


سوال

 

سجدہ سہو میں کیا حکمت ہے ؟ اور کیا اس سے نماز مکمل ہوجاتی ہے ؟

جواب

               واضح رہےکہ بھول چوک انسان کی فطرت میں ہےاس لیے شریعت نے اس قسم کی کوتاہیوں کی تلافی کیلئے طریقے مقرر کئے ہیں جس سے ان کوتاہیوں کی تلافی ہو جاتی ہے۔نماز میں بھی کبھی کبھار آدمی کوتاہی کرجاتا ہے اگر یہ کوتاہی اس طور پر ہو کہ نماز کے دوران نماز میں کوئی واجب بھول کر چوٹ جائےیا بھول کر واجب کا تکرار  آجائےاسی طرح بھول کر فرض یا واجب کی تاخیر کی جائے تو ان صورتوں میں اس کمی کو دور کرنے کیلئے شریعت مطہرہ نے سجدہ سہو کا طریقہ وضع کیا ہے جس سے نماز کے واجبات کی کمی پوری ہوجاتی ہےاور اس کے ادا کرنے سے نماز کامل ہوجاتی ہے۔تاہم اگر واجبات میں سے کوئی واجب قصدا چھوڑدیا جائے  تو اس غلطی کی تلافی سجدہ سہو سے نہیں ہوتی بلکہ نماز فاسد ہوجاتی ہے۔

 

ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره۔(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو،ج:1،ص:126)

وظاهر كلام الجم الغفير أنه لا يجب السجود في العمد وإنما تجب الإعادة جبرا لنقصانه، كذا في البحر الرائق.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة،الباب الثاني عشر في سجود السهو،ج:1،ص:126)


فتویٰ نمبر : 9033/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں