بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کا کرایہ کے گھر میں عدت گزارنا


سوال

ایک آدمی فوت ہوا ہے۔جس کا ايك گھر وطن اصلی میں تھا اور عارضی طور پر  شہر میں بھی کرایہ کا گھر لیا تھا۔جن کے درمیان مدت سفر کا فاصلہ بنتا ہے۔یہ شخص اکثر کرایہ کے گھر میں رہتا تھا اور کبھی اصل گھربھی جاتا تھااور اس کی فوتگی کرایہ والی گھر میں  ہوئی ہے۔اب مطلوبہ امر یہ ہے کہ متوفٰی کی بیوہ عدت کس گھر میں گزارے گی اور کسی ایک گھر میں عدت شروع کرنے کے بعدوہ عورت اپنے بچوں کے ساتھ دوسرے گھر جاسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

          اگر کسی عورت کا شوہر فوت ہوجائے اور وہ حاملہ نہ ہوتو اس پرچار ماہ دس دن عدت گزارنا واجب ہے ۔عدت کے دوران عورت شوہرکےاس گھر میں رہے گی ، جس میں شوہر کے موت سے قبل وہ دونوں رہ رہے تھے ۔تاہم اگر کسی عورت کو شدید عذر پیش آئے،مثلا:اپنے نفس یا عصمت کے لیے خطرہ ہویا گھر گر جانے کا خطرہ ہویا گھر کے کرایہ دینے کا کوئی انتظام نہ ہو توان اعذارکی بنا پرعورت کے لیے نقل مکانی کرنا مرخص ہے،تاہم شدید عذر کے بغیر نقل مکانی نہیں کرسکتی۔

         صورت مسئولہ کے مطابق متوفٰی کی بیوہ اسی کرایہ کی گھر میں عدت  گزارےگی ،جس میں شوہرکی موت سے قبل وہ دونوں رہ رہے تھے ۔البتہ اگراوپر بیان کردہ کسی مجبوری کی بناپر وہ عورت اس گھر کو تبدیل کرنا چاہے توگنجائش ہوگی۔

 

(وتعتدان)أي معتدة طلاق و موت(في بيت وجبت فيه)ولا تخرجان منه(إلا أن تخرج،أو ينهدم المنزل أو تخاف)انهدامه أو(تلف مالها أو لا تجد كراءالبيت)ونحو ذلك من الضروريات،فتخرج لأقرب موضع إليه.(الدرالمختار على صدر ردالمحتار،كتاب الطلاق، باب العدة،5/225)

المتوفى عنها زوجها تخرج نهارا وبعض الليل ولا تبيت في غير منزلها...على المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة أو الموت... المعتدة لا تسافر لا للحج و لا لغيره. (الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع عشر في الحداد،1/587.586(


فتویٰ نمبر : 6373/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں