بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے نکاح کرنا


سوال

كيا سنی لڑکی شیعہ لڑکے سے شادی کر سکتی ہے؟ 

جواب

               فقہائے کرامؒ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ  جن اہل تشیع  کے عقائد کفر کی حد تک پہنچے ہوں ، مثلا وہ قرآن پاک میں تحریف کے قائل ہوں یا حضرت علی رضی  اللہ عنہ کو معبود مانتے ہوں ،یا حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ کی صحابیت کے منکر ہوں ،یا  جبرئیل علیہ السلام کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ ان  سے وحی  پہنچانے میں غلطی ہو گئی یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگاتے ہوں ، یا اس کے علاوہ کوئی اور کفریہ عقیدہ رکھتے ہوںوہ اسلام  سے خارج ہیں  لہذا  ايسے شیعہ کے ساتھ نکاح جائز نہیں البتہ وہ شیعہ جس کے عقائد کفر کی حد تک نہ پہنچےہوں،انہیں کافر نہیں کہا جا سکتا اور ایسے شیعہ سے نکاح کی گنجائش ہے تاہم احتیاط اس میں ہے کہ ان سے بھی نکاح نہ کیا جائے۔

             صورت مسئولہ کے مطابق اگر شیعہ  مذكوره بالا کفریہ عقائد میں  سے کوئی عقیدہ رکھتا ہویا اس کے علاوہ کوئی اور کفریہ عقیدہ رکھتا ہو اس سنی لڑکی کا اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں۔اور اگر کفریہ عقائد میں سے کوئی عقیدہ نہ رکھتا ہو تو شیعہ  لڑکے کے ساتھ  اس کا نکاح  جائز ہےتاہم نکاح کے مقاصد میں سے دونوں خاندانوں کی ہم آہنگی وموافقت بھی ہے اور ایسے رشتوں   میں چونکہ نظریاتی اختلاف  کی وجہ سے ہم آہنگی اور موافقت مشکل ہوتی ہےعلاوہ ازیں آج کل  نظریاتی لحاظ سے اہل ِتشیع کی تمیز بھی مشکل ہے اس لیےبہرحال ایسے نکاح سے احتراز کرنا چاہیے۔

 

ومنها أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما  فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة لقوله تعالى { ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن } ويجوز أن ينكح الكتابية لقوله عز وجل{والمحصنات من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم} والفرق أن الأصل أن لا يجوز للمسلم أن ينكح الكافرة لأن ازدواج الكافرة والمخالطة معها مع قيام العداوة الدينية لا يحصل السكن والمودة الذي هو قوام مقاصد النكاح(بدائع الصنائع،کتاب النکاح،فصل في شرط أن يكون للزوجين،ج:3،ص458)

نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة رضي الله تعالى عنها أو أنكر صحبة الصديق أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن ۔ ۔ ۔  وأما الرافضي ساب الشيخين بدون قذف للسيدة عائشة ولا إنكار لصحبة الصديق ونحو ذلك فليس بكفر فضلا عن عدم قبول التوبة بل هو ضلال وبدعة۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الجهاد،باب المرتد،مطلب مهم في حكم سب الشيخين،ج:6،ص:378)

لا يجوز نكاح المجوسيات ولا الوثنيات وسواء في ذلك الحرائر منهن والإماء كذا في السراج الوهاج ويدخل في عبدة الأوثان عبدة الشمس والنجوم والصور التي استحسنوها والمعطلة والزنادقة والباطنية والإباحية وكل مذهب يكفر به معتقده كذا في فتح القدير۔(الفتاوی الھندیۃ،الباب الثالث فی بیان المحرمات،القسم السابع المحرمات با لشرک،ج:1،ص282)

ومنها أن يكون للزوجين ملة يقران عليها۔(بدائع الصنائع،کتاب النکاح،فصل في شرط أن يكون للزوجين،ج:3،ص458)


فتویٰ نمبر : 6375/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں