بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مورث سے پہلے فوت ہونے والے وارث کے لیے میراث کا حکم


سوال

 ایک شخص فوت ہوا ہے ، اس کی ایک بیوی اور ایک بیٹی ہے، نیز اس کے تین بھائی اور بھی زندہ موجود ہیں، تو کیا اس بیٹے کو ماں باپ کی میراث ملے گی یا نہیں؟

جواب

          شرعی نقطہ نظر سے  میت کی میراث  اس وارث کو ملتی ہے، جو مورث کی موت کے وقت زندہ موجود ہو، لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق جو بیٹا ماں باپ سے پہلے فوت ہوجائے، تو  اس کا ماں باپ کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔

 

بيانه أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث( ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الفرائض ، ج: 10 ،ص:511)


فتویٰ نمبر : 3184/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں