بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

تبلیغی جماعت کا کسی علاقہ میں پندرہ دن سے زیادہ قیام کی نیت کرنا


سوال

 تبلیغی جماعت والوں کا کسی  دیہات یا شہر میں  تیس دن کی تشکیل ہواور وہاں مساجد کے درمیان ایک یا دو کلو میٹر کا فاصلہ ہو تو اس صورت میں قصر کریں گے یا اتمام ؟

جواب

            اگر تبلیغی جماعت کسی ایک شہر یا گاؤں میں 15 دن یا اس سے زیادہ گزارنے کے لیے تشکیل کی گئی  ہو اور اس کے اندر اندر مساجد میں جانا ہو تو اس شہر یا گاؤں میں وہ جماعت مقیم کہلائے گی لہذا  پوری نماز پڑھیں گے، چاہے مساجد کے مابین جتنا بھی فاصلہ ہو۔ اور اگر کئی بستیوں میں تشکیل ہو چنانچہ 15 دن سے پہلے ایک بستی سے دوسری بستی یا گاؤں جانا پڑتا ہو تو اس صورت میں مسافر کہلائے گی ، لہذا  قصر نماز پڑھیں گے۔

 

(وأما) اتحاد المكان: فالشرط نية مدة الإقامة في مكان واحد؛ لأن الإقامة قرار والانتقال يضاده ولا بد من الانتقال في مكانين وإذا عرف هذا فنقول: إذا نوى المسافر الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان مصرا واحدا أو قرية واحدة صار مقيما؛ لأنهما متحدان حكما، ألا يرى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر فقد وجد الشرط وهو نية كمال مدة الإقامة في مكان واحد فصار مقيما وإن كانا مصرين نحو مكة ومنى أو الكوفة والحيرة أو قريتين، أو أحدهما مصر والآخر قرية لا يصير مقيما؛ لأنهما مكانان متباينان حقيقة وحكما۔ (بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل ما يصير به المسافر مقيما، ج:1، ص:98)


فتویٰ نمبر : 9027/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں