بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/09/2026

دارالافتاء

 

قرض پر منافع لینا


سوال

منیر نے اسرار سے کہا  کہ میں نے چھ(6) بھینسیں لینی ہیں لہذا مجھے دس (10) لاکھ روپے چھ (6)مہینوں کے لیے  ادھار دو ، ان چھ(6)بھینسوں  میں فی بھینس بیس(20000)  ہزار  منافع  دوں گا  اس  طرح کرنا جائز ہے، کیایہ منافع  اسرار کے لیے  جائز  ہوگا یا سود میں شمار ہوگا؟۔

جواب

          شریعت مطہرہ کی   رو سے  قرض کے معاملہ  میں کوئی  ایسی  شرط لگانا درست نہیں جس میں  قرض  خواہ  کو فائدہ  حاصل ہو، کیوں کہ یہ سود کے زمرے  ميں داخل ہونے کی وجہ سے حرام  ہے۔

          لہذا صورت مسؤلہ میں اسرار کا منیر  کو بھینس خریدنے کے واسطے  چھ(6)مہینوں  کے لیے  دس لاکھ  روپے دے کر  فی بھینس  بيس(20000)   ہزارمنافع  وصول کرنا سود  کے زمرے میں داخل ہے، اس لیے  یہ اضافی  رقم لینا جائز نہیں ،

 

وأما الذي يرجع إلى نفس القرض فهو أن لا يكون فيه جر منفعة فإن كان لم يجز نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة على أن يرد عليه صحاحا أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعا ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب (بدائع الصنائع،كتاب القرض فصل فی الشروط،ج:1،ص:597)

 لأن للأجل  شبهاً بالمبيع،ألا يری أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل۔(الهداية،كتاب البيوع،باب المرابحة والتولية،ج:3،ص:78)


فتویٰ نمبر : 2986/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں