بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
کلالہ کی میراث اور وصیت
سوال
ایک خاتون وفات پاگئی ہے، جس نے ترکہ میں جائیداد اور بینک میں موجود کچھ رقم چھوڑی ہے۔اس خاتون کی شادی نہیں ہوئی ہےاور اس کےنہ والدین حیات ہیں اور نہ ہی اب اس کی بہن بھائی حیات ہیں۔ صرف بھتیجے، بھتیجی، بھانجے اور بھانجیاں موجود ہیں۔ اب طلبِ حل امور یہ ہیں:1-اس خاتون کے شرعی ورثا کون ہیں؟ اگر بھتیجے ہیں تو وہ تین ہیں اور ان میں سے ایک لاپتہ ہے جو بیرون ملک میں پیدا ہوا اور عرصہ دراز سے پاکستان نہیں آیا، جب کہ باقی دو حیات ہیں۔2-مرحومہ نے اپنی وفات سے آٹھ ماہ قبل بینک میں موجود رقم اور پراپرٹی کے متعلق مجھے(اپنی بھانجی کو) ایک وصیت لکھوائی تھی ، جس میں 1/3کی وصیت میرے حق میں ، جب کہ 2/3 کی وصیت دیگر تین رشتہ داروں(دوسری بھانجی، بھانجے کا بیٹا اور بھتیجی کی بیٹی) کے حق میں تھی، جس پر ورثا کو اعتراض نہیں۔ واضح رہے کہ مرحومہ کے ذمہ پندرہ لاکھ قرض بھی واجب الادا ہے۔ لہذا وصیت اور بینک میں موجود رقم کے متعلق شرعی رہنمائی درکار ہے۔
جواب
جب کوئی شخص فوت ہوجائے اور وہ ترکہ میں مال وجائیداد چھوڑ دے تو شرعاً اس کے ترکہ کے ساتھ بالترتیب چار حقوق متعلق ہوتے ہیں(1) سب سے پہلے تجہیز وتکفین اور دفن کے انتظام کے اخراجات اعتدال کےساتھ اس سے ادا کیےجائیں گے۔(2)اس کے بعد بقیہ مال سے میت کے ذمہ واجب الادا قرضوں کو ادا کیا جائےگا۔(3) اگر میت نے اپنی زندگی میں کوئی وصیت کی ہو تو باقی ماندہ مال کے ایک تہائی میں وصیت نافذ کی جائے گی۔ اگر کسی نے ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کی ہو یا کسی وارث کے حق میں وصیت کی ہو، چاہے ایک تہائی کی وصیت کی ہو یا اس سے کم وزیادہ کی تو غیر وارث کے حق میں ایک تہائی سے زائد اور وارث کے حق مطلقاً یہ وصیت نافذ نہ ہوگی، البتہ اگر ورثا میں کوئی نابالغ نہ ہو اور سب ورثا بغیر کسی جبر واکراہ اور بلا کسی قسم کے دباؤ اور مجبوری کے اس قسم کی وصیت کے نافذ کرنے پر راضی ہوں تو اسے نافذ قرار دیا جائے گا، لیکن اگر ورثا میں کوئی نابالغ ہویا بالغ ہوں، لیکن راضی نہ ہوں تو غیر وارث کے حق میں ایک تہائی سے زائد کی وصیت یا کسی وارث کے حق میں کی گئی وصیت مطلقاً نافذ نہ ہوگی۔(4) ان تین حقوق کی ادائیگی کے بعد میت کے ترکہ میں سے جو مال بچ جائے تو اس کو ورثا کے مابین میراث کے شرعی ضابطے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں(1) اگر مرحومہ کی وفات کے وقت واقعی اس کے والدین اور بہن، بھائیوں میں سے کوئی موجود نہ تھا، بلکہ صرف بھتیجے ،بھتیجی اور بھانجے اور بھانجیاں موجود تھیں تو صرف بھتیجے اس کے وارث ہوں گے۔
جہاں تک لاپتہ بھتیجے کا حکم ہے تو شرعاً لاپتہ شخص اس کو کہا جاتا ہے جو اپنے علاقے سے اس طور پر غائب ہو کہ اس کی موت وحیات کا کوئی علم نہ ہو۔ محض عرصہ دراز سے اپنے شہر نہ آنے کی وجہ سےکوئی مفقود(لاپتہ) شمار نہیں ہوتا، لہذا اگر مرحومہ کا ایک بھتیجااس طور پر غائب ہو کہ اس کی موت وحیات کا کوئی علم نہ ہوتو مرحومہ کے ترکہ میں سے اس کو بھی حصہ دیا جائے گا اور اس کے حصہ کو کسی معتمد شخص کے پاس رکھا جائے گا اگر وہ زندہ آگیا تو اس کو اپنا حصہ دے دیاجائےگااور اگر اس کی موت کا علم ہوجائے یا اتنی مدت گزرجائے کہ اس کی عمر نوے سال ہوجائے اور مسلمان حاکم یا قاضی کی طرف سے اس کی موت کا فیصلہ ہوجائے تو اس کے بعد اس کے موقوف مال کو مرحومہ کے دیگر بھتیجوں کے مابین ان کے حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
2-ترکہ میں سے پہلے مرحومہ کے ذمہ واجب الادا قرض کو ادا کیا جائے گا، چاہے وہ بینک میں موجود رقم سے کیا جائےیا جائیداد کی قیمت سے،اس کے بعد باقی ماندہ مال وجائیدادکے ایک تہائی میں وصیت نافذ ہوگی، لہذا سائلہ(بھانجی)اور دیگر تین رشتہ دار(دوسری بھانجی، بھانجے کا بیٹا اور بھتیجی کی بیٹی)جن کے حق میں وصیت کی گئی ہے چونکہ یہ ورثا نہیں ، اس لیے مرحومہ کے قرض کی ادائیگی کے بعد اِن کے حق میں باقی مال کے ایک تہائی میں وصیت نافذ ہوگی، جس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ اس ایک تہائی کو تین حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ سائلہ کو دیا جائے گا جس کے حق میں تہائی کی وصیت کی ہے جب کہ باقی دو حصےان تین افراد کو دیے جائیں گے جن کے حق میں وصیت کی ہےاور بقیہ مال ورثا میں تقسیم ہوگا۔تاہم اگر ورثا میں کوئی نابالغ نہ ہو اور سب بغیر کسی جبر وکراہ اور کسی قسم کے دباؤ کے اس پوری وصیت کے نافذ کرنے پر راضی ہوں تو بقیہ پورے مال میں وصیت نافذ کرنا جائز ہے۔
قال علماؤنا ـ رحمهم الله ـ تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة: الأولى: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقتير، ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث مابقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة۔(السراجي، الحقوق المتعقة بتركة الميت: 5)
المفقود هو الرجل الذي يخرج في وجه فيفقد ولا يعرف موضعه ولا تستبين حياته ولا موته أو يأسره العدو فلا يستبين موته ولا قتله كذا في المحيط۔ قال مشايخنا رحمهم الله تعالى مدار مسألة المفقود على حرف واحد إن المفقود يعتبر حيا في ماله ميتا في مال غيره۔۔۔ حتى ينقضي من المدة ما يعلم أنه لا يعيش إلى مثل تلك المدة أو تموت أقرانه وبعد ذلك يعتبر ميتا في ماله يوم تمت المدة أو مات الأقران وفي مال الغير يعتبر ميتا كأنه مات يوم فقد كذا في الذخيرة من مات في حال فقده ممن يرثه المفقود يوقف نصيب المفقود إلى أن يتبين حاله لاحتمال بقائه فإذا مضت المدة التي تقدم ذكرها وحكمنا بموته قسمت أمواله بين الموجودين من ورثته وأما الموقوف من تركة غيره فإنه يرد على ورثة ذلك الغير ويقسم بينهم كأن المفقود لم يكن۔(الفتاوى الهندية، كتاب الفرائض، الباب الثامن في المفقود والأسير والغرقى والحرقى، ج:6، ص:448)
قال ولا تجوز بما زاد على الثلث۔۔۔ قال إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار؛ لأن الامتناع لحقهم وهم أسقطوه ۔۔۔ ولا تجوز لوارثه لقوله عليه الصلاة والسلام إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه ألا لا وصية لوارث۔۔۔ قال إلا أن تجيزها الورثة۔(الهداية، كتاب الوصايا، باب الصفة الوصية، ج:4، ص:638-640)
كما إذا أوصى له بألف درهم وللآخر بألفين وثلث ماله ألف درهم فإن الثلث يكون بينهما أثلاثا كل واحد منهما يضرب بجميع نصيبه۔(الفتاوى الهندية، كتاب الوصايا، الباب الثلاث في الوصية بثلث المال ونحوه، ج:6، ص:115)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں