بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

جوڑوں كے درد كے ليے تانبے كے كڑے كو بطور علاج پہننا


سوال

 جوڑوں کے درد کیلئے تانبے کے کڑے کو دم کر کے بطور علاج پہننا جائزہے یا نہیں ؟

جواب

         واضح رہے کہ جسمانی امراض کا علاج دواؤں کی طرح بسا اوقات دم اور تعویذ سے  بھی کیا جاتا ہے ،دم یا تعویذ سے علاج کرنے میں تین شرائط کا خیال  رکھنا ضروری ہے :

1۔دم یا تعویذ ،اللہ جل شانہ کے اسما وصفات  یا دیگر اذکار مسنونہ وماثورہ سے ہو ۔

2۔جھاڑ پھونک اور تعویذ عربی زبان میں ہو یا ایسی زبان میں ہو جس کا معنی ومفہوم معلوم ہو  تاکہ کفر وشرک اور ارواح خبیثہ سے استعانت کا شبہ باقی نہ رہے ۔

3۔دم اور تعویذ کو صرف علاج اور شفا کا سبب تصور کیا جائے ۔حقیقی مؤثر اور شفا دینے والا اللہ تعالی کو مانا جائے۔     

صورت مسؤلہ میں  کڑے کے پہننے کی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہو سکتی ہیں  جن میں سے ہر ایک کا حکم جدا جدا ہے:

(1)بغیر جھاڑ پھونک اور  علاج کی نیت کے محض عرف ورواج کی خاطر کڑے کو پہناجائے، شرعا یہ فعل مکروہ اور عبث ہے جس سے اجتناب ضروری ہے ۔

(2) جوڑوں کے درد کےلیے تانبے کے کڑے کو دم کر کے بطور علاج اس عقیدے کے ساتھ  پہنا  جائے کہ یہ شفا یابی میں مؤثر حقیقی کا درجہ رکھتا ہے،چونکہ یہ فعل  مشرکانہ عقائد کی ترجمانی کرتا ہے جس سے ایمان کھو بیٹھنے  کا قوی اندیشہ ہے،اس لیے شرعا یہ حد درجہ ممنوع اور ناجائز ہے ۔

(3)دم شدہ کڑے کے پہننے کوعلاج میں مؤثر حقیقی نہ سمجھا جائے، روایات کی روشنی میں اس کی گنجائش ہے ،اس لیے کہ جن روایات  میں دم،تعویذاور گھنڈوں کی  ممانعت کا   تذکرہ ہے،فقہاے کرام کی تشریحات سے معلوم ہوتا ہےکہ یہ ممانعت اس دم اور تعویذ وغیرہ  سے متعلق ہے جس سے غلط اور مشرکانہ عقائد  کی ترجمانی ہو یا آئندہ ان کی وجہ سے مشرکانہ عقائد میں پڑنے کا خطرہ ہو۔

 

وقد أجمع العلماء علی جواز الرقی عند اجتماع ثلاثةشروط :أن یکون بکلام الله أوبأسماءه وصفاته وبلسان العرب أوبمایعرف معناه من غیره وأن یعتقد أن الرقيةلاتؤثر بذاتها بل بذات الله تعالی۔(فتح الباری،کتاب الطب،باب الرقی بالقرآن والمعوذات،ج:11،ص:352)

وعن زینب امراة عبدالله ابن مسعود رضى الله عنه أن عبدالله رأى فى عنقي خيطا فقال ما هذا ؟فقلت خيط رقي لي فيه، قالت: فاخذه فقطعه ،ثم قال :أنتم آل عبد الله لأغنياء عن الشرك۔۔۔قال القاضى:وإنما أطلق الشرك عليها ؛إما لأن المتعارف منها فى عهده ما كان معهودا فى الجاهلية ،وكان مشتملا على ما يتضمن الشرك۔۔۔ويحتمل أن يراد بالشرك اعتقاد أن ذالك سبب قوي وله تاثير وكان ينافي التوكل والانحراط فى زمرة اللذين لا يسترقون ولا يتطيرون وعلى ربهم يتوكلون ۔(عون المعبودشرح سنن أبي داؤد ،كتاب الطب ،باب فى الرقى ج: 10/ص:297)

ولعل تعليق ما هو مجرب بالطب جائز۔(العرف الشذي شرح سنن الترمذي، كتاب الطب ،باب تعليق التمائم،3/360)


فتویٰ نمبر : 4930/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں