بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

موبائل بلز پر دکان دار کا اضافی پیسے لینا


سوال

عام طور پر دوكان دارجب ايزی پیسہ کے ذریعے بل جمع کرتے ہیں تو کمپنی کی طرف سے دوکان دار کو دو تین روپے ملتے ہیں  اور گاہک سے کچھ نہیں لیتے۔ لیکن اب اگر دوکان دار یہ کہے کہ کمپنی کے دو تین روپے ہمارے لیے کم ہیں ہم گاہک سے بھی مناسب رقم وصول کریں گے تو کیا ایسا کرنا جاٰئز ہے؟

جواب

              واضح رہے کہ کسی متعین شخص،کمپنی یا ادارہ کی جانب سے اجرت کےعوض کسی کام پر مامور شخص اجیر کہلاتا ہے پھر اگر وہ اجیر صرف مستاجر ہی کے واسطے کام کرنے کے لئے اجارہ پر رکھا گیا ہو  تو اجیر خاص اور اگر کسی ایک متعین شخص یا کمپنی کے لئے کام کرنے پر مامور نہ ہو بلکہ وہ ہر کسی کے لئے کام کرنے میں آزاد ہو تو  وہ اجیر مشترک کہلائے گا۔

                  صورت مسئولہ میں ایزی پیسہ دوکانداراجیر مشترک ہے اوراجیر مشترک کام مکمل کرنےکے بعداجرت کا حقدار ہوتا ہے،تاہم ایزی پیسہ دوکاندار کا کمپنی کی ڈیوائیس کے ذریعہ ٹرانزیکشنز پر کسٹمر سے اضافی چارجز لینا جائز نہیں کیونکہ دوکاندارکمپنی کا اجیر ہےاور کمپنی  دوکاندار کو ان ٹرانزیکشنز پر اجرت بصورت کمیشن دیتی ہے لہذا اس ایک عمل پر دوہری اجرت لینا یعنی (کمپنی سے اجرت کے ساتھ ساتھ کسٹمرسےبھی وصول کرنا) جائز نہیں ۔

 

(فالأول من يعمل لا لواحد ) كالخياط ونحوه ( أو يعمل له عملا غير موقت ) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره ( أو موقتا بلا تخصيص )۔۔۔۔۔ ( ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل۔  (الدر المختار ، كتاب الإجارة ، باب ضمان الأجير،ج:9، ص94)

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي۔ (البحر الرائق ، فصل في التعزير، ج: 5، ص: 44)


فتویٰ نمبر : 2972/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں