بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

ٹیلیفون پر نکاح کرنا


سوال

جب لڑکا لڑکی ایک ہی شہر میں رہتے ہوں تو ٹیلفون پر کیا جانے والا نکاح جائز ہوتا ہے یا نہیں؟

جواب

         نکاح منعقد ہونے کے لیے  یہ ضروری ہے کہ ایجاب وقبول ایک ہی مجلس میں ہوں اوراسی  مجلس میں گواہ(دومرد یا ایک مرد اور دو عورتیں)بھی موجود ہ ہو ں اور  وہ ایجاب وقبول کے الفاظ کو سن لیں۔

         لہذاصورت مسئولہ کے مطابق لڑکے اور لڑکی کا ٹیلیفون پر نکاح منعقد نہیں ہوتا ،اس لیے کہ ایسی صورت میں ایجاب وقبول ایک ہی مجلس میں ہونے کی شرط پوری نہیں ہوتی۔

 

(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر...ومن شرائط الإیجاب والقبول إتحاد المجلس...(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا).وقال ابن عابدين تحت قوله (اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب.(الدر المختار مع ردالمحتار،كتاب النكاح،4/76.68)

ومنها أن یکون الإیجاب والقبول في مجلس واحد حتی لو اختلف المجلس بأن کانا حاضرین فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل یوجب اختلاف المجلس لا ینعقد، وکذا إذا کان أحدهما غائبًا لم ینعقد.(الفتاویٰ الهندیة،كتاب النكاح،الباب الباب الأول في تفسيره،1/334)


فتویٰ نمبر : 6366/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں