بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جائیداد میں مقررہ حصہ نہ دینے پر طلاق معلق کرنا


سوال

اگر دو آدمی جائیداد میں شریک ہوں۔ان میں سے ایک کا حصہ پانچ کنال بنتا ہواور دوسرا یہ کہے کہ "اگر میں نے فلاں کویہ پانچ کنال زمین دے دی تو مجھ پر بیوی طلاق ہوگی"تو اس کا کیا حکم ہوگااور اس سے بچنے کے لیے  کیاطریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

               اگر طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کیا جائے توشرط پائے جانے پر طلاق واقع ہوجائے گی۔جتنےالفاظ  طلاق کہے ہوں اتنی ہی طلاقیں واقع ہوں گی۔

               صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنے شریک(جس کا حصہ  پانچ کنال بنتا ہو) کو پانچ کنال دینے پر طلاق معلق کیا ہوتو اس کو اسی مقدار میں زمین دینے پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی ،جس کے بعدعدت کے اندر بغیر تجدید نکاح کےشوہر اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہےاور اگر اسی طلاق معلق کا مختلف مجالس میں تذکرہ کیا ہو اور اس سےمراد اسی طلاق معلق کی خبر دینا تھا توایک ہی طلاق واقع ہوگی،لیکن اگر اس سے مزید طلاق دینے کی نیت ہو تو پھر مزید طلاقیں بھی واقع ہوں گی،لہذا اگر دو دفعہ کہا ہو تودو طلاق رجعی واقع ہوں گی اور اگر تین دفعہ کہا ہو  تو تین طلاقیں واقع ہوکر عورت مطلقہ مغلظہ ہوگی۔

 طلاق سے بچنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیاجاسکتا ہے کہ یہ شخص اپنے شریک کو پانچ کنال سے تھوڑی سی کم  زمین دے دے اور بقیہ زمین کی قیمت دے۔اس طرح کرنے سے شریک کو اپنا حق بھی مل جائے گا اور کوئی طلاق بھی واقع نہ ہوگی ۔نیز زمین کی بجائےاس کی قیمت دینے سےبھی طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

إذا أضافه إلى الشرط،وقع عقيب الشرط اتفاقا.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،الفصل الثالث،1/488)

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية،أو تطليقين،فله أن يراجعها في عدتها.(الهداية،كتاب الطلاق،باب الرجعة،2/254)

و كرر لفظ الطلاق وقع الكل.(الدرالمختارعلى صدرردالمحتار،كتاب الطلاق،باب طلاق غير مدخول بها،4/521)

فأما إذا قال لها: أنت طالق، فقال له إنسان: ما ذا قلت؟ فقال: قد طلقتها، أو قال: قلت: هي طالق، فهي طالق واحدة؛ لأن كلامه الثاني جواب لسؤال السائل، والسائل إنما يسأله عن الكلام الأول لا عن إيقاع آخر؛ فيكون جوابه بيانًا لذلك الكلام.(المبسوط للسرخسی،باب من الطلاق،6/99)


فتویٰ نمبر : 6360/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں