بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

طلاقِ معلق كے وقوع سے بچنے کا حیلہ


سوال

 ایک شخص نے اپنے چاروں بیٹوں کو بٹھا کر طلاق ثلاثہ پر وعدہ لیا کہ جب چاروں بھائی جدا ہوں گے تو اپنا سارا مال اکٹھا کر کے آپس میں برابر برابر تقسیم کریں گے اگر کسی نے دوسرے سے چھپایا یا کسی اور کے پاس اس دوران زیور یا سامان وغیرہ بنوا کے رکھا تو ایسا کرنے والے پر بھی طلاق ثلاثہ کا اطلاق ہوگا ۔ہم تمام بھائیوں میں سے ہر ایک نے کہا کہ اگر تقسیم کے وقت ہم نے کچھ چھپایا تو  ہماری بیویاں ہم پر تین طلاق کے ساتھ طلاق ہوں۔  طلاقِ ثلاثہ پر وعدہ لینے والے والد صاحب بقید حیات ہیں کچھ بھائی بیرون ملک ہوتے ہیں اور کچھ ادھر ہی کاروبار کرتے ہیں ان کی اجتماعیت کے لیے یہ وعدہ لیا گیا۔ اب اگر یہ  بهائى جدا ہوتے ہیں تو ان کی بیویوں کو طلاق واقع ہو گی۔ کیا شریعت میں اس سے بچنے کی کوئی صورت ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ  اگر کسی شخص نے بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا تو شرط کی موجودگی میں طلاق واقع ہو جائے گی۔

          صورتِ مسؤلہ میں اگر  ان چاروں بیٹوں ميں سے كسی نے تقسیم کے وقت کچھ نہ چھپایا  اور یہ چاروں اسی حالت میں بٹوارا کر لیں تو کوئی طلاق واقع نہ ہو گی۔ لیکن اگر کسی نے کچھ  اشیاء پوشیدہ رکھے ہوں   اور اس کے بعد یہ چاروں بھائی بٹوارا کریں  تو اس صورت میں جس    بھائی نے  بھی جدا ہوتے  وقت اپنا مال چھپایا یا کسی اور کے پاس  زیور یا سامان وغیرہ کی صورت میں  رکھا تو ایسا کرنے والے کی بیوی  پرتین  طلاقیں  واقع ہو جائیں  گی۔

           تین طلاق سے بچنے کے لیے یہ حیلہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی بھائی بٹوارے کے وقت کچھ چھپانا چاہے تو  وہ تقسیم سے اتنا پہلے  اپنی بیوی  کو ایک طلاق بائن   دے دے،  کہ تقسیم سے پہلے پہلے اس کی عدت بھی ختم ہو جائے۔ پھر تقسیم کے وقت اگر وہ کچھ چھپائے گا تو شرط واقع ہو جائے گی لیکن اس وقت چونکہ اس  کی بیوی    اس کے نکاح میں نہیں ہو گی، اس لیے کوئی  طلاق واقع نہ ہو گی، اور شرط بھی پوری ہو جائے گی ۔ اس کے بعد   یہ  اپنی بیوی   کے ساتھ تجدیدِ  نکاح کرے ۔ نکاح کے بعد اسے دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہو گا ۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج1، ص420)

فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها۔(ردالمحتار مع الدرالمختار، كتاب الطلاق، مطلب في اختلاف الزوجين في وجود الشرط،ج3، ص355)


فتویٰ نمبر : 6383/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں