بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

قبرستان میں بنائی گئی جناز گاہ میں عید کی نماز ادا کرنے کا حکم


سوال

 اگر جنازگاہ قبرستان میں ہو ،تو عید کے دن اس میں نماز عید ادا کرنا کیساہے؟

جواب

       واضح رہے کہ اگر قبرستان میں کوئی خالی جگہ ہو، جہاں قبریں نہ بنی ہوں، یا قبریں ہوں، مگر نمازیوں کے بالکل سامنے نہ ہوں، بلکہ فاصلے پر ہوں، اس طرح کہ نمازی کی نظر ان پر نہ پڑے یا نمازی اور قبر کے درمیان کوئی حائل وغیرہ ہو، تو ایسی صورت میں قبرستان میں نمازبلا کراہت پڑھنے کی گنجائش ہے،اور اگر نمازی  کےسامنے قبر نظر آتے ہوں  اوردرمیان میں کوئی حائل وغیرہ نہ ہو تو ایسی جگہ نماز ادا کرنامکروہ ہے ۔ لہٰذاعید کی نماز جناز گاہ میں ادا کرنا جائز ہے ۔ البتہ مسنون یہ ہے کہ عید کی نماز آبادی سے باہر عیدگاہ یا کسی میدان میں ادا کی جائے۔

 

عن ‌أبي مرثد الغنوي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"‌لا ‌تجلسوا ‌على ‌القبور ‌ولا ‌تصلوا ‌إليها"(صحیح مسلم ،کتاب الجنائز،باب النهي عن الجلوس علي القبر والصلاة اليه،رقم الحديث:972)

ویکره ان تکون قبلة المسجد الی المخرج او الی الحمام او الی القبر لان فيه ترک تعظیم المسجد وفی الخلاصة هذاإذا لم یکن بین یدی المصلی وبین هذا الموضع حائل کالحائط وان کان حائطاً لایکره.(حلبی کبیر، مكروهات الصلاة، ص:353)
الخروج الي الجبانة  في  صلاة العيد سنة وان كان يسعهم المسجد الجامع علي هذا عامة المشائخ وهو الصحيح هكذا في المضمرات.(الفتاوي الهندية كتاب الصلاة، الباب السابع عشر في صلاة العيدين،ج:1،ص:150)


فتویٰ نمبر : 9023/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں