بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ويب سائٹ پر دوسروں کے بنائے ہوئے کارٹون اپلوڈکرکے پیسے کمانے کا حکم


سوال

میری ایک ویب سایٹ ہے ، جس کے اوپر میں دوسرے لوگوں کے بنائے ہوئے کارٹون اپلوڈ کر تا ہوں ۔ اس سے حاصل ہونے والے پیسے حلال ہیں؟

جواب

             واضح رہے کہ جو  کارٹون موسیقی یا فحاشی وغیرہ پر مشتمل ہوں، تو انہیں بنانا، اپلوڈ کرنا، دیکھنا اور سننا سب ناجائز اور حرام ہے، اسی طرح کسی اور کے بنائے ہوئے کارٹون اصل مالکان کی اجازت کے بغیر اپلوڈ  کرنا بھی ناجائز ہے، جس سے اجتناب کرنا ضروری ہے، اور ایسی صورت میں اس سے پیسے کمانا بھی حلال نہیں ، اور اگر رقم وصول کرچکے ہوں، وہ بلانیتِ ثواب صدقہ کردیں۔تاہم اگر کوئی کارٹون اصل مالک کی اجازت سے اپلوڈ کیے جائیں، نیز ان میں فحاشی اور موسیقی وغیرہ نہ ہو، بلکہ بچوں کے لیے اچھی نیت سے اسلامی انداز میں بنائے گئے کارٹون ہوں۔تو ان سے پیسے کمانے کی گنجائش ہے۔تاہم ایسی صورت میں بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ان میں جاندار کی تصاویر نہ ہوں، بلکہ صرف غیر جاندار چیزوں پر مشتمل ہوں، کیونکہ جاندار کی ڈیجیٹل تصویر کے حرام اور حلال ہونے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے، اس لیے بہتر اور احتیاط یہی ہے کہ بلا ضرورت جاندار کی ڈیجیٹل تصاویر بنانے اور دیکھنے سے اجتناب کیا جائے۔

 

عن مجاهد، قال: كنت مع ابن عمر، " ‌فسمع ‌صوت ‌طبل، فأدخل إصبعيه في أذنيه، ثم تنحى، حتى فعل ذلك ثلاث مرات، ثم قال:هكذا فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم " (سنن ابن ماجه، کتاب النکاح، باب الغناء والدف، ج:1، ص:613)

عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرئ ‌مسلم إلا بطيب نفس منه " (السنن الكبرى للبيهقي، ‌‌كتاب الغصب، ‌‌باب من غصب لوحا فأدخله في سفينة، ج:6، ص:166)

‌والإجارة ‌الفاسدة ‌على ‌أحد ‌عشر ‌وجها: أحدها الإجارة على المعاصي وهو أن يستأجر الرجل الرجل ليقتل رجلا او يضربه او يشتمه أو يستأجر النائحه أو المغنية لتنوح علي ميتة او لتغني له أو يستأجر حمالا ليحمل له خمرا أو غيره فإن استأجرها على أن يطرح عنه ميتة أو يصب خمرا فهو جائز وله الاجرة ولا أجرة على المعاصي لا المسماة ولا المثل۔ (النتف في الفتاوى للسغدي، ‌‌كتاب الإجارة، ‌‌إجارة الحمام، ج:2، ص:574)


فتویٰ نمبر : 2980/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں