بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
پنجرہ کے سامنے نماز پڑھنا
سوال
نماز میں بطور سترہ پنجرہ سامنے رکھنا جس میں چکور ہو جائزہے یا ناجائز؟
جواب
فقہائے کرام کی عبارات کے مطابق نمازی کے سامنے کسی جانورکے بیٹھنے یا گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی ۔
لہذاصورت مسؤلہ کے مطابق نماز کی حالت میں نمازی کے سامنے اگرپنجرہ رکھا ہو جس میں چکور بھی ہو تو اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، البتہ اگر پنجرہ میں رکھے ہوئے چکور سے گیت گانے کا اندیشہ اس طور پر ہو کہ نمازی کو ہنسائے یا اس کی خشوع کو متاثر کرے تو اس سے نماز میں کراہت آئے گی ۔
ومرور المرأة والحمار والكلب بين يدي المصلي لا يقطع الصلاة ۔۔۔ وروي عن «ابن عباس - رضي الله عنه - أنه قال: زرت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مع أخي الفضل على حمار في بادية فنزلنا فوجدنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يصلي فصلينا معه والحمار يرتع بين يديه» ، وفي بعض الروايات والكلب والحمار يمران بين يديه.(بدائع الصنائع،كتاب الصلوة،فصل في بيان حكم الاستخلاف،ج:2،ص:142،145)
وفي رواية الحسن عن أبي حنيفة يكره له أن يصلي وقبله نيام أو قوم يتحدثون لما أخرجه البزار عن ابن عباس مرفوعا «نهيت أن أصلي إلى النيام والمحدثين» وأجيب بأنه محمول في النائمين على ما إذا خاف ظهور صوت منهم يضحكه ويخجل النائم إذا انتبه وفي المحدثين على ما إذا كان لهم أصوات يخاف منها التغليط أو شغل البال ونحن نقول بالكراهة في هذا ثم يعارض الحديث المذكور في النائمين ويقدم عليه لقوته ما في الصحيحين عن عائشة قالت «كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يصلي صلاة الليل كلها وأنا معترضة بينه وبين القبلة فإذا أراد أن يوتر أيقظني فأوترت» (البحر الرائق ،كتاب الصلوة ،باب ما يفسد الصلوه وما يكره فيها،ج:2،ص:55)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں