بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

شیعہ کےپیچھے نماز پڑھنا


سوال

 کیا شیعہ  امام کے پیچھے سنی  کی نماز ہو جائے گی؟

جواب

             اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کی نماز  کسی  صحیح راسخ العقیدہ ،فقیہ اور با عمل عالم دین کے پیچھے پڑھنا  افضل ہے اور اس کے بر عکس کسی بدعتی ،جاہل اور فاسق فاجر کی اقتدا میں نماز پڑھنے کی وہ قدر وقیمت بر قرار نہیں رہتی ، اس لیے فقہاے کرام   نے اسے مکروہ تحریمی قرار  دیا ہے ۔لیکن اگر کوئی شخص کفریہ   عقائد  رکھتا ہو ، تو اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز نہیں اور نہ  ہی  اس سے فر ضیت ادا ہوتی ہے۔

           صورت  مسؤلہ میں  جس شیعہ کے عقائد  کفر کی حد تک  پہنچ  گئے ہوں ۔مثلا وہ قرآن پاک  میں تحریف  کا  قائل ہو  یا  حضرت علی رضی اللہ عنہ  کو  معبود مانتا ہو  ، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کی صحابیت  سے  منکر ہو ،یا جبریل  علیہ السلام  کے متعلق  یہ عقیدہ  رکھتا ہو  کہ ان سے وحی  پہنچانےمیں غلطی  ہوگئی یا حضرت عائشہ رضی للہ عنہا پر بہتان  لگاتا ہو، وہ اسلام سے خارج ہے،لہذا ایسے عقائد  رکھنے  والے کی اقتدا  میں نماز پڑھنا  جائز نہیں ۔  البتہ وہ فرقہ جس  کے عقائد کفر  کی حد تک  نہ پہنچے ہوں ،انہیں کافر نہیں کہا جاسکتا ،  تا ہم  اس کی اقتداء میں  بھی نماز پڑھنے  سے احتراز کیا جائے تاکہ نماز جیسا اہم فریضہ  بے احتیاطی سے ضائع نہ ہو جائے،کیونکہ کسی شخص  کے قلبی  اعتقاد  کو معلوم کرنا ممکن نہیں  ۔

 

 نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن۔۔۔وأما الرافضي ساب الشيخين بدون قذف للسيدة عائشة ولا إنكار لصحبة الصديق ونحو ذلك فليس بكفر فضلا عن عدم قبول التوبة بل هو ضلال وبدعة۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الجهاد،باب المرتد،مطلب مهم في حكم سب الشخين، ج:6،ص378)

قال المرغيناني تجوز الصلاة خلف صاحب هوى وبدعة ولا تجوز خلف الرافضي والجهمي والقدري والمشبهة ومن يقول بخلق القرآن وحاصله إن كان هوى لا يكفر به صاحبه تجوز الصلاة خلفه مع الكراهة وإلا فلا۔۔۔ولو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لا ينال مثل ما ينال خلف تقي۔(الفتاوی الهندية،كتاب الصلوة،الباب الخامسِ في الإمامة،،الفصل الثالث،ج:1،ص،84)


فتویٰ نمبر : 9030/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں