بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

احسان كے ساتھ قرض کیاادائیگی کرنا


سوال

ایک ہوٹل کا مالک مجھ سےکبھی کبھاررقم قرض لیتا ہےمیرے اس تعاون کی وجہ سےاکثرچائےاور کبھی کھانے کی کوئی چیز بھیج دیتا ہےمیں اسے منع کرتا ہوں،کیا یہ بھی سود میں آتا ہے؟

جواب

               شرعی نقطہ نظر سےسودکسی شخص کودیے ہوئےقرض پراضافی رقم یا کسی اور فائدہ کامطالبہ کرنا سود کہلاتا ہے،چنانچہ اگر قرض خواہ نےاس قسم شرط نہ لگا ئی ہو بلکہ قرض داراپنی طرف سےکوئ  احسان کرے یاہدیہ وغیرہ بھیج دے  توشرعا یہ سود کےزمرے میں نہیں آتا  ،تاہم اگر اس کو معلوم ہو کہ یہ ہدایا وغیرہ قرض کی وجہ سے مل رہے ہیں تواس کا لینا کراہت سے خالی نہیں -

            صورت مسؤلہ میں چونکہ قرض خواہ نےقرض پراضافی فائدہ کی کوئی شرط نہیں لگائی اس لیےقرض دار کی جانب سے ملنے والا کھانا یا چائےوغیرہ سود کے  زمرے میں  داخل نہیں ،تاہم  اگر معلوم ہےکہ  یہ  قرض کی وجہ سے کیا جا رہا ہے توپھراس کے استعمال سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے-

 

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ۔۔۔ويؤيده ما ذكروه فيما لو أهدى المستقرض للمقرض إن كانت بشرط كره وإلا فلا-(ردالمختار، کتاب البیوع، باب المرابحه والتوليه،مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:7 ص:395)

ولا بأس بهدية من عليه القرض، والأفضل أن يتورع إذا علم أنه إنما يعطيه لأجل القرض أو أشكل فإن علم أنه يعطيه لا لأجل القرض بل لقرابة أو صداقة بينهما لا يتورع، وكذا لو كان المستقرض معروفا بالجود، والسخاء جاز۔(البحرالرائق،کتاب البیع، باب المرابحه والتوليه،ج:6، ص:204)


فتویٰ نمبر : 2985/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں