بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
دکاندار کا اپنے اکاونٹ میں رقم منتقل کرکے کسٹمر کو اپنی طرف سے رقم دینے پر کمیشن لینا
سوال
میری موبائل کی دکان ہے اور میں اس میں ایزی پیسہ کا کام بھی کرتا ہوں۔ جب ہم کسی کے ایزی پیسہ اکاونٹ سے ایک ہزارروپیہ نکا لتے ہیں ، تو اس پر 20 روپیہ اضافی چارج کیے جاتے ہیں ، جن میں سے کچھ کمپنی والوں کے پاس چلے جاتے ہیں اور کچھ ہمیں دیے جاتے ہیں ، لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم سے اپنے ذاتی اکاونٹ میں ہزار روپےمنتقل کرتے ہیں ، اور اضافی 20 روپےبھی کاٹتے ہیں ، اوراس صورت میں وہ20 روپےہمارےاکاونٹ میں آجاتے ہیں اور کوئی اضافی چارجز اس میں نہیں ہوتے، اور اس طرح وہ ہزار روپےہم کسی بینک اکاونٹ میں ڈال دیتے ہیں اور وہ 20 روپےہمیں بچ جاتے ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ یہ 20 روپےہمارے لیے جائز ہیں یا نہیں ؟کمپنی والوں کے ساتھ رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے دکاندار دار کو ایسا کرنے کی اجازت ہے۔
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے خدمات کے عوض اجرت حاصل کرنا اجارہ کہلاتا ہے عقد اجارہ کی صحت کے لئے جو شرائط ہیں ان کی رعایت رکھنے کی صورت میں یہ عقد جائز ہے۔
صورت مسؤلہ میں دوکاندار کا ایزی پیسہ والوں کےڈیوائیس کی بجائے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں کسٹمر کی رقم منتقل کرنااور پھر کسٹمر کو رقم دینااور اس سہولت و خدمات کی فراہمی کے عوض 20روپے اجرت لیناجائز ہے ،تاہم کسٹمرکو اجرت سے متعلق پہلے آگاہ کردینا ضروری ہےتاکہ بعد میں باہم تنازع کا سبب نہ بنے۔
وان وردت الإجارة على العمل كالخياطة و الصبغ ، فلا يجب الأجر مالم يفرغ الأجير من العمل. (شرح المجلة لسليم رستم باز، كتاب الإجارة ، الباب الثالث ، ص/265)
(فالأول من يعمل لا لواحد ) كالخياط ونحوه ( أو يعمل له عملا غير موقت.....(ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل).(الدر المختار ، كتاب الإجارة ، باب ضمان الأجير ، 9/94)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں