بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بارہ تولہ سونا میں کئی سالوں کی زکوۃ


سوال

میری چچی کے پاس(1993ء)سے بارہ(12)تولے سونا ہے،اس دوران اس میں کوئی کمی زیادتی نہیں ہوئی ہے،اب وہ اس کی زکوۃ ادا کرنا چاہتی ہےتو زکوۃ ادا کرنے کا کیا طریقہ ہوگا اور اس کی زکوۃ کتنی رقم ہوگی؟ اب اس کی مالی حالت کمزور ہے اورمیں ایک طالب علم ہوں ،اگرمیں اس کی تملیک کروں،تو کیایہ شرعا درست ہوگا اور  اس کا ذمہ فارغ ہوگا؟

جواب

               اگر کسی کے پاس نصاب کے بقدرمال موجود ہو اور اس پرسال گزر جائے تو اس پر ڈھائی فیصد زکوۃ واجب ہوجاتی ہے۔اگر صاحب نصاب بننے کے بعد کئی سالوں کی زکوۃ ادا نہ کی ہوتو ہر سال کے تمام اموال زکوۃ میں سے ڈھائی فیصد کا زکوۃ ادا کرے گا۔جس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سال کی زکوۃ کے لیے اس سال موجود تمام اموال زکوۃ (سونا ،چاندی،نقدی اور مال تجارت)سے ڈھائی فیصد کا حساب لگایا جائے گا،پھر اگلے سال اس ڈھائی فیصد کو منفی کرکے بقیہ مال کے ڈھائی فیصد کا حساب نکالا جائے گا۔اسی طرح ہر سال کی زکوۃ کا حساب لگانے کے لیے اس سے پچھلے  سال کی زکوۃ کو منفی کرکے بقیہ مال کے ڈھائی فیصد کا حساب لگایا جائے گااور پھر تمام سالوں کے واجب شدہ زکوۃ  کو ادا کیا جائےگا۔

          صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت نےجب سےبارہ تولہ سونا میں زکوۃ ادا نہ کی ہو،ان میں سے پہلے سال کاڈھائی فیصد کا حساب لگائےاور پھر اس کے بعد والے سال کی زکوۃ کے حساب سے ڈھائی فیصد سونے کو نکال کر باقی سونے میں ڈھائی فیصد کا حساب لگائے۔اسی طرح ہر سال کی زکوۃ کے لیے پچھلے سال کی زکوۃ (ڈھائی فیصد) کو منفی کرکے بقیہ سونے کی ڈھائی فیصد کا حساب لگایاجائے۔اسی طرح تمام سالوں کی زکوۃ کا حساب لگانے کے بعد اس کے مجموعہ کو معلوم کرکے جتنا سونا  بن جاتا ہو، وہ یا اس کی قیمت کسی مستحق زکوۃ کو تملیکادےدے۔اگر چند سالوں کے زکوۃ کو منفی کرنے سے بقیہ سونا نصاب (ساڑھ سات تولے)سے کم ہوجاتا ہوتو اس میں زکوۃ لازم نہیں۔

          اسی طرح صورت مسئولہ میں مذکورہ  طالب علم اگر نصاب کا مالک نہ ہوتو وہ مستحق زکوۃ  ہے   ،لہذا وہ مذکورہ عورت کی زکوۃ میں سے اتنی   زکوۃ بلا کراہت لے سکتا ہےجس سے وہ خود صاحب نصاب نہ بنتاہو۔مالک بننے کے بعداپنی مرضی سے اسی عورت کو ہبہ بھی کرسکتا ہے۔

 

وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أوعشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة ... وكذا هذا في مال التجارة.(بدائع الصنائع،كتاب الزكاة،1/387)

ولا يجوز دفعها إلى ولد الغني الصغير ،كذا في التبيين،ولو كان كبيرا فقيرا جاز.(الفتاوى الهندية،الباب السابع في المصارف،1/251)


فتویٰ نمبر : 9026/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں