بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کافر، چھوٹے بچے یا کسی قوم کی غیبت کرنے کا حکم


سوال

کافر یا چھوٹے بچے کی غیبت کرنا جائزہے یا نہیں؟ نیز کسی مخصوص قوم یا قبیلہ کی غیبت کرنے کا شرعا کیا حکم ہے؟

جواب

              شریعت اسلامیہ نے کسی انسان کی غیبت کرنا حرام قرار دے کر اسے مردار کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے، خواہ وہ کافر یا کوئی چھوٹا بچہ ہی کیوں نہ ہو، تاہم اگر کسی کی برائی کا تذکرہ کسی کو اس کے شر سے بچانے کے لیے کیا جائے، یا کسی کو برے کام یا ظلم سے منع کرنے کے لیے ایسے لوگوں کے سامنے کیا جائے، جو اس کو منع کرنے پر قادر ہوں ، یا والدین آپس میں اپنے چھوٹے بچے کی تربیت کی خاطر اس کی برائیوں کا تذکرہ کریں تو اس کی شرعا گنجائش ہے۔

            جہاں تک کسی قوم یا قبیلے کی غیبت کا تعلق ہے تو اگر کسی قوم یا قبیلے کی غیبت اس کے تمسخر اور مذاق اڑانے پر مشتمل ہو تو یہ شرعا ناجائز ہے، تاہم اگر کسی قوم کے بعض افراد کے کسی عمل کو ان کا نام لینے کی بجائے عمومی انداز سے ذکر کیا جائے، تو اس صورت میں چونکہ بعض افراد مجہول ہیں، اس لیے یہ شرعا غیبت میں شامل نہیں ۔

 

قال الله تعالى: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ. (الأحزاب:11)

(وكذا) لا إثم عليه (لو ذكر مساوئ أخيه على وجه الاهتمام لا يكون غيبة إنما الغيبة أن يذكر على وجه الغضب يريد السب) ولو اغتاب أهل قرية فليس بغيبة لأنه لا يريد به كلهم بل بعضهم وهو مجهول خانية فتباح غيبة مجهول. (الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:9، ص:585)

اعلم أن الغيبة حرام بنص الكتاب العزيز وشبه المغتاب بآكل لحم أخيه ميتا...وفي تنبيه الغافلين للفقيه أبي الليث: الغيبة على أربعة أوجه: في وجه هي كفر بأن قيل له لا تغتب فيقول: ليس هذا غيبة، لأني صادق فيه فقد استحل ما حرم بالأدلة القطعية، وهو كفر، وفي وجه: هي نفاق بأن يغتاب من لا يسميه عند من يعرفه، فهو مغتاب، ويرى من نفسه أنه متورع، فهذا هو النفاق، وفي وجه: هي معصية وهو أن يغتاب معينا ويعلم أنها معصية فعليه التوبة، وفي وجه: هي مباح وهو أن يغتاب معلنا بفسقه أو صاحب بدعة وإن اغتاب الفاسق ليحذره الناس يثاب عليه لأنه من النهي عن المنكر اهـ. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:9، ص:586)


فتویٰ نمبر : 4921/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں