بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

شرط فاسد کے ساتھ خرید و فروخت کرنا


سوال

ہندہ  اپنا مکان زید کو اس شرط پر بیچ رہی ہے  کہ زید اسے حج پر بھیجے گا چاہے جتنی  رقم بھی  لگے اور بعد میں آکر تاحین حیات اسی مکان میں رہے گی تو اس طرح اس شرط پر  ہندہ کا فروخت کرنا اور زید کا خرید لینا از روۓ شرع جائز ہوگا یا ناجائز ؟

جواب

              فقہائے کرام کی  تصریحات کے مطابق بیع کی مجلس میں مبیع اور ثمن کا معلوم ہونا ضروری ہے،  اگر ان میں سے کوئی بھی مجہول ہو تو بیع فاسد ہوگی، کیونکہ مبیع اور ثمن کی جہالت  خریدار اور فروخت  کرنے والے کے درمیان  جھگڑے کا سبب بن سکتا ہے۔ نیز خرید و فروخت میں اگر کوئی ایسی شرط لگائی جائے جس میں بائع  یا مشتری یا مبیع کا فائدہ ہو، اور یہ شرط عقد کے مناسب بھی نہ ہو، تو اس سے بیع فاسد ہوجاتی ہے۔

         صورت مسئولہ کے مطابق   مکان   کا ثمن مجہول ہے، کیونکہ حج پر بھیجنے کا خرچہ نا معلوم ہے،تو ثمن کی جہالت کی وجہ سے یہ بیع فاسد ہوگی، اسی طرح  فروخت کرنے  کے بعد  اسی گھر میں رہنے کی شرط لگانے  کی وجہ سے  بھی یہ عقد فاسد ہو گا ،  اس لیے اس طرح عقد شرعاً ناجائز ہے۔ اس کی  متبادل  جائز صورت یہ ہے، کہ حج پر جانے کا کل خرچہ  اندازہ سے معلوم کیا جائے، اور اسے مکان کی قیمت  قرار دیا جائے،   اور مکان میں رہائش کی کوئی شرط نہ لگائی جائے، تاہم   اگر مشتری چاہے تو یہ گھر خریدنے کے بعد عاریۃً با اجارہ پر ہندہ  کو رہائش کے لیے  دے سکتا ہے۔

 

عن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة،( سنن الترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء في النهي  عن بيعتين في بيعة، رقم الحدیث: 1231،ج:3،ص: 532 )

وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع؛ لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا، أو؛ لأنه يقع بسببه المنازعة فيعرى العقد عن مقصوده (الھداية  فی شرح البداية ، ج:3،ص:48)

(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة. ( بدائع الصنائع، کتاب البیوع، فصل فی شروط الصحة،ج: 6، ص: 592)


فتویٰ نمبر : 2971/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں