بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

فون پر یا آمنے سامنے کرنسی اور سونے کا تبادلہ کرنا


سوال

ایک شخص بازار میں کرنسی اور خالص سونے کا تبادلہ فون پر یا آمنے سامنے اس طرح کرتا ہے کہ طرفین میں سے کوئی بھی کچھ بھی حوالہ یا وصول نہ کرے تو شرعا ایسا  عقد جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

           واضح رہے کہ سونا اور چاندی خلقی طور پر ثمن ہیں جبکہ  کرنسی موجودہ دور میں ثمن عرفی کی  حیثیت رکھتی ہے،یعنی حکومت کے بطور کرنسی جاری کرنے اور اعتبار دینے سے ثمن بن گئی ہے اور اسی وجہ  سے لوگوں میں بطورثمن متعارف ہے تا ہم چونکہ دونوں کی ثمنیت کی حیثیت مختلف ہے اس لیے کرنسی اور سونا چاندی کا باہم تبادلہ بیع صرف کے حکم میں داخل نہیں لہذا مجلس عقد میں دونوں طرف سے قبضہ شر ط نہیں  البتہ دونوں  میں سے ایک پر مجلس عقد میں  قبضہ ضروری ہے تا کہ ادھار کے بدلے ادھار کی بیع لازم نہ آئے کیونکہ حضور ﷐نے اس سے منع فرمایاہے۔

            صورت مسئولہ  میں کرنسی اور خالص سونے کے باہم تبادلہ کی صورت  میں اگر طرفین کسی بھی چیز پر قبضہ نہ کریں یعنی کرنسی اور سونا دونوں ادھارہو ں تو یہ ادھار کے بدلے ادھار کا سودا ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔

 

عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الكالئ بالكالئ يعني: الدين بالدين. (شرح معاني الآثار،باب بيع المصراة،ج2،ص124)

وقيد بالذهب والفضة لأنه لو باع فضة بفلوس أو ذهب بفلوس فإنه يشترط قبض أحد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما، كذا في الذخيرة۔( البحرالرائق، كتاب الصرف ج6، ص324)


فتویٰ نمبر : 2968/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں