بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رکن کی تاخیر سے سجدہ سہوکا وجوب


سوال

اگر کوئی شخص پہلی رکعت پر بیٹھ کر تشہد میں یہ الفاظ’’التحیات للہ والصلوٰت ‘‘پڑھ لے اور پهر دوسری رکعت کے لیے اٹھ جائے تو کیااس پر سجدہ سہو آتا ہے یا نہیں؟

جواب

            واضح رہےکہ سجدہ سہو کےوجوب کے لیے ایک سبب تاخیرِرکن ہے،لیکن اتنی تاخیر جس میں نماز کا کوئی کم سے کم رکن یعنی رکوع یاسجدہ سنت طریقے کے مطابق ادا کیا جاسکےجس کی مقدار فقہائےکرام کے اقوال کی روشنی میں تین بار ’’سبحان ربی الأعلیٰ‘‘مقرر کی گئی ہے،چنانچہ اس مقدارسے کم تاخیر کی صورت میں سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔ لہٰذاصورت مسئولہ میں پہلی رکعت پڑھنے کے بعد قعدہ میں ’’التحیات للہ والصلوٰت ‘‘تک پڑھنے سےدوسری رکعت کے لیے اٹھنے میں تاخیر مذکورہ مقدار سے کم ہے اس وجہ سےاس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔

 

قال العلامة الحصكفى في واجبات الصلوة:وترك قعود قبل ثانيةأو رابعة وکل زيادة تتخلل بين الفرضين،قال الشامي تحته:وكذا القعدة في آخر ركعة الاولىٰ أو الثالثةفيجب تركها ويلزم من فعلها أيضاً تأخير القيام إلى الثانية أو الرابعة عن محله۔(رد المحتار على الدر المختار،مطلب لا ینبغی أن یعدل عن الدرایۃ۔۔۔ج:2،ص:164)

(وقدر الكثير ما يؤدى فيه ركن) أي بسنته كما قيده في المنية قال شارحها ابن أمير حاج أي بما له من السنة أي بما هو مشروع فيه من الكمال السني كالتسبيحات في الركوع والسجود . . . أو قدر ركن قصير كالركوع أو السجود بسنته أي قدر ثلاث تسبيحات وبالثاني جزم البرهان إبراهيم الحلبي في شرح المنية حيث قال وذلك مقدار ثلاث تسبيحات.(منحۃ الخالق علی البحر الرائق،باب شروط الصلوٰۃ،ج:1،ص:474)


فتویٰ نمبر : 9035/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں