بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وقوعِ طلاق میں طلاق دینےوالےکےقول کااعتبار


سوال

میں (نصراللہ)نےایک مریض کوڈرپ گرم کرکےچڑھایا،تاکہ ٹھنڈاہونےکی وجہ سےری ایکشن نہ کرے،صبح جب میں ہسپتال آیا،تواسامہ اوریوسف آپس میں باتیں کررہےتھے،میں جب ان کےقریب آیا،توان سےکچھ سنا،جب یوسف چلاگیا،تومیں نےاسامہ سےکہاکہ یوسف نےآپ سےکہاکہ نصراللہ نےجوڈرپ گرم کیاتھا،توگرم نہیں کرناچاہیےتھا،تواسامہ نےمجھ سےکہاکہ خداکی قسم،ہم نےڈرپ کےحوالےسےکچھ نہیں کہاہے،اس پرمیں نےکہاکہ"پہ مادي خزہ درےکانڑی طلاقہ وی"ترجمہ:(میری بیوی کوتین پتھرطلاق ہوں)کہ میں نےسناکہ یوسف نےاس طرح کہاہے،لیکن یوسف اوراسامہ انکارکرہےہیں کہ ہم نےڈرپ کےحوالےسےباتیں نہیں کی،بلکہ نصراللہ کووہم ہواہے،حالانکہ مجھےیقین ہےکہ میں نےسناہے،اب پوچھنایہ ہےکہ:1:کیامیری بیوی کوطلاقیں ہوئی ہیں؟:اگرمیری بیوی کوطلاقیں ہوئی ہوں،تواس کاکیا حکم ہوگا،اوردوبارہ نکاح کرنےکاشرعی طریقہ کیاہے؟

جواب

              جب طلاق کوکسی شرط کےساتھ معلق کیاجائے،توشرط پائےجانےکی صورت میں طلاق واقع ہوتی ہے۔نیزماضی پرطلاق معلق کرناطلاقِ منجزکے حکم میں ہے۔

1:صورتِ مسؤلہ کےمطابق چونکہ نصراللہ کےیقین کےمطابق شرط(یوسف اوراسامہ کاڈرپ کےحوالےسےباتیں کرنا)پائی گئی ہے،لہذااس کی بیوی تین طلاقوں کےساتھ مغلظہ ہوکراس پرحرام ہوچکی ہے۔

2:مطلقہ مغلظہ کےساتھ حلالہ کیےبغیرازدواجی تعلق قائم کرناجائزنہیں،اورحلالہ کاطریقہ یہ ہےکہ مطلقہ عورت عدت پوری کرنےکےبعد اگر چاہے توکسی اورآدمی سےنکاح کرکےصحبت کرلے،پھراگرزوجِ ثانی نےرضامندی سےطلاق دےدی،تودوبارہ عدت گزارنےپراگریہ عورت چاہے،توزوجِ اول(نصراللہ)سےنکاح کرسکتی ہے،تاہم زوجِ ثانی کےساتھ نکاح کی صورت میں طلاق کی شرط لگانامکروہِ تحریمی ہے۔

 

إذاأضافه إلی الشرط،وقع عقیب الشرط اتفاقا.(الفتاوی الھندیة،کتاب الطلاق،الباب الرابع:في الطلاق بالشرط،ج1ص 420)

وأما الحلف بالطلاق والعتاق وما أشبه ذلك فما يكون على أمر في المستقبل فهو كاليمين المعقود وما يكون على أمر في الماضي فلا يتحقق اللغو والغموس ولكن إذا كان يعلم خلاف ذلك أو لا يعلم فالطلاق واقع وكذلك الحلف ينذر لأن هذا تحقيق وتنجيز كذا في الإيضاح.(الفتاوی الھندیة،کتاب الأیمان،الباب الأول:في تفسیرھاشرعا،ج2ص57)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.(الفتاوی الھندية،كتاب الطلاق،الباب الرجعة،ج:1،ص:473)

(وکرہ)التزوح للثاني(تحریما)لحدیث"لعن الله المحلل والمحلل له"(بشرط التحلیل)کتزوجتك علی أن أحللك...(أماإ ذاآٔضمراذلك لا)یکرہ،وکان الرجل مأجورالقصد الإصلاح.(الدرالمختار،کتاب الطلاق،باب الرجعة۔ج5ص47,48)


فتویٰ نمبر : 6367/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں