بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

مشترکہ کاروبار میں ذاتی دکان کا کرایہ لینا


سوال

 ہم مشتركہ كاروبار كرتے ہیں ،جس کے لیے میری ذاتی دکان استعمال ہوتی ہے۔ تو کیا میرے لیےاپنے شریک سے کرایہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

        شریعت مطہرہ میں اپنی مملوکہ چیز دوسروں کو کرایہ پر دینا جائز ہے  ۔

       لہذا صورت مسٔولہ میں سائل  کے لیے جائز ہے کہ وہ  اپنی ذاتی دکان مشترکہ کاروبار کے لیے کرایہ پر دے اور اس کا کرایہ وصول کرے، یہ کرایہ  مشترکہ مال سے ادا کیا جائے گا۔

 

وفي غاية البيان: طعام بين اثنين ولأحدهما سفينة فاستأجر الآخر نصفها بعشرة دراهم جاز، وكذا لو أراد أن يطحنا الطعام فاستأجر نصف الرحى الذي لشريكه أو استأجر أنصاف جواليقه هذه ليحمل هذا الطعام إلى مكة جاز۔ (رد المحتار، كتاب الإجارة، مطلب في الاستئجار على المعاصي، ج:6، ص:60)


فتویٰ نمبر : 2966/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں