بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
لگی ہوئی قطار میں دوسروں سے آگے بڑھنا
سوال
۱۔کسی شخص کا کسی ایسی جگہ پر جہاں قطار میں انتظار کرکے اپنا کام کروانا ہوتا ہے{مثلاً ہسپتال یا ٹکٹ گھر یا ہوٹل،وغیرہ} وہاں بغیر قطار کے سفارش یا جان پہچان کے ذریعے کام کروانا کیساہے؟ ۲اگر کلینک یا ہسپتال میں متعلقہ ڈاکٹر خود کسی کو ایمرجنسی میں یا جان پہچان یا سفارش کی بنیاد پر قطار کے درمیان سے بلالے تو کیا یہ درست ہے؟ ڈاکٹر کا اس طرح بلانا اور مریض کا چیک اپ کروانا صحیح ہے؟ ۳اگر وہ مریض یا اس کے ساتھ آیا ہوا شخص خود عوام کا ایک خادم ہو {مثلاً متعلم یا عالم یا ڈاکٹر یا امام، وغیرہ} اور اسے قطار میں انتظار کرنے سے معمولات میں خلل واقع ہوتا ہو جو یقینا اس سے متعلق تمام عوام کا حرج ہے تو ایسے شخص کے لئے بغیر قطار کے کام کروانا کیسا ہے؟ برائے مہربانی تمام جزئیات کے مکمل اور تفصیلی جوابات عنایت فرمادیں تاکہ کوئی تردد نہ رہ جائے۔
جواب
شرعی نقطہ نظر سے ایک مسلمان کی شرعی اوراخلاقی ذمہ داری ہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق کا خیال رکھے ،چنانچہ اگر کہیں کسی ادارے کی طرف سے کسی معاملے میں استحقاق کی بنیاد پہلے آنے پر ہو، یعنی جو پہلے آئےگا، اس کا حق مقدم ہوگا،تو پہلے آنے والے شخص کا حق بعد میں آنے والوں سے مقدم ہوگا، لہذا پہلے آنے والے شخص کی رضامندی کے بغیر بعد میں آنے والا شخص پہلے والے کی باری سے آگے بڑھنے کا مستحق نہیں ،اور اس کے لیے سفارش یا اثر رسوخ کا استعمال بھی جائز نہیں ۔
البتہ اگر ادارے کی طرف سے اس قانون سے کچھ لوگوں کو مستثنیٰ رکھا گیا ہو، مثلاً: ایمرجنسی کی حالت میں آنے والے مریض یا بوڑھے اور بزرگ حضرات یا جن حضرات سے دیگر لوگوں کے حقوق وابستہ ہوں یا ادارے نے متعلقہ شخص (مثلاً : ڈاکٹر وغیرہ) کو اس بارے میں کچھ لوگوں کو مستثنیٰ رکھنے کا اختیار دیا ہو،یا کسی شخص کا ذاتی ادارہ یا کلینک وغیرہ ہو جس میں کسی معقول وجہ کی بنا پر کسی کو ترجیح دےتو شرعااس کی گنجائش موجود ہے۔
(عن نافع قال: سمعت ابن عمر يقول نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أن يقيم الرجل من مقعده) أي: من مكان قعود الرجل الثاني أو الرجل الأول بأن خلا المكان وقعد فيه غيره، ثم رجع وأراد إقامته (ويجلس) بالنصب ويرفع. (فيه) أي: في مقعده. قال العسقلاني بالنصب، ولو صح الرواية بالرفع لكان المجموع منهيا. وقال ابن حجر بالنصب عطف على " يقيم " فكل منهي عنه على حدته، وروي بالرفع فالجملة حالية، والنهي عن الجمع حتى لو أقامه ولم يقعد لم يرتكب النهي، والوجه هو الرواية الأولى، وما أفادته ; لأن العلة الإيذاء وهو حاصل بكل على الانفراد ; فحرم لأن من سبق إلى المباح فهو أحق به بنص الحديث الصحيح: " من سبق إلى ما لم يسبق غيره فهو أحق به " اهـ. وفيه أن محط الإيذاء إنما هو الإقامة منه لا الجلوس فيه، فإنه لو أقامه ولم يجلس فهو منهي، وإذا قام بنفسه فجلس فيه أحد لا بأس به، وكذا لو أقام ولم يجلس وجلس غيره مكانه، فله ذلك إذا لم يكن بأمره ; فذكر الجلوس للسبب العادي، وفي الحديث إيماء إلى أنه أقامه لغرض شرعي جاز، فقوله: فكل منهي على حدته، غير مستقيم على إطلاقه. (قيل لنافع: في الجمعة) أي: هذا النهي في الجمعة فقط. (قال: في الجمعة وغيرها فإن منى مناخ من سبق كما ورد في الحديث) . قال ابن حجر: وللرجل بعث من يحيز له مكانا من المسجد إلا خلف مقام إبراهيم - صلى الله عليه وسلم - والروضة الشريفة ونحوهما، أي: تحت الميزاب، فيحرم فرش السجادات فيه لمن جاء ووجد فراشا أن ينحيه ويجلس محله، وليحذر من رفعه بيده ونحوها لدخوله في ضمانه حينئذ.(مرقاۃالمفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح ،باب التنظیف و التبکیر،ج:3،ص:1037)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں