بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کی ممانی اورماموں زادبیٹیوں کےساتھ مصافحہ کرنااورگپ شپ لگانا


سوال

ایک شخص اپنی بیوی کی ممانی اوربیوی کی ماموں زادبیٹیوں کےساتھ مصافحہ اورگپ شپ کرسکتاہے یانہیں،کیاممانی اس شخص کےلیےساس کادرجہ نہیں رکھتی،شرعی حکم واضح فرمائیں؟

جواب

             شرعی  نقطۂ نظرسےکسی شخص کی بیوی کی ممانی(بشرطیکہ محرمات میں سے نہ ہو) اوربیوی کی ماموں زادبیٹیاں غیرمحرم اوراجنبی ہوتی ہیں،جن سے پردہ کرناواجب ہے۔لہذاان کےساتھ مصافحہ کرنااورگپ شپ لگاناجائزنہیں،اس سےاحترازلازم ہے۔

 

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبةحدثنا سفيان بن عيينة أنه سمع محمد بن المنكدرقال:سمعت أميمة بنت رقيقة تقول:جئت النبي صلى الله عليه و سلم في نسوة نبايعه،فقال لنا:فيما استطعتن وأطقتن،إني لا أصافح النساء.(سنن ابن ماجة،أبواب الجھاد،باب بیعةالنسآء،ج2ص206)

وأما النوع الرابع وهو الأجنبيات وذوات الرحم بلا محرم:فإنه يحرم النظر إليها أصلا من رأسها إلى قدمها سوى الوجه والكفين،فإنه لا بأس بالنظر إليهما من غير شهوة،فإن كان غالب رأيه أنه يشتهي يحرم أصلا،وأما المس فيحرم،ولا تحل المصافحة إن كانت تشتهي وإن كان الرجل لا يشتهي.(تحفةالفقھآء،الحظروالإباحة،ج3ص334,333)


فتویٰ نمبر : 6357/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں